متحدہ عرب امارات نے دبئی میں متعین اسرائیلی سفیر کو ملک بدر کرنے کا حکم جاری کردیا۔
مڈل ایسٹ آئی نے اسرائیلی چینل 12 نیوز کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امارات نے اسرائیلی حکومت کو آگاہ کیا کہ وہ یوسف ابراہام شیلی کو بطور سفیر مزید قبول نہیں کر سکتا، جس کے بعد اسرائیلی حکومت کو انہیں واپس بلانا پڑ رہا ہے۔
عبرانی ویب سائٹ N12 کے مطابق شیلی دبئی کی ایک بار میں متعدد اسرائیلیوں، جن میں خواتین بھی شامل تھیں، کے ساتھ شریک ہوئے اور ایسا رویہ اختیار کیا جسے اماراتی حکام نے “ناقابلِ قبول اور ہماری عزت کو مجروح کرنے والا” قرار دیا۔
واضح رہے کہ امارات نے 2020 میں ابراہام اکارڈ کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے تھے۔ غزہ پر اسرائیلی حملوں کے تناظر میں جب پوری دنیا میں اسرائیل کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے، ایسے میں ابوظبی اسرائیل کا سب سے قریبی عرب شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔
غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل کے وزیر خارجہ نے صرف یو اے ای کا ہی دورہ کیا ہے۔ جنوری 2025 میں گیڈیون ساعر نے غزہ میں ایک عارضی جنگ بندی سے قبل یو اے ای کا دورہ کیا۔
یو اے ای کی حالیہ کارروائی قابلِ ذکر ہے۔ اس چھوٹے سے خلیجی ملک کی آبادی ایک کروڑ ہے، جن میں صرف 10 فیصد اماراتی شہری ہیں۔ باقی اکثریت جنوبی ایشیائی مزدوروں، برطانوی تارکین وطن، روسی سرمایہ داروں اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز پر مشتمل ہے۔ دبئی کو خلیج کا نائٹ لائف مرکز سمجھا جاتا ہے۔
اسرائیلی سفیر نے کیا حرکت کی؟
گزشتہ ہفتے عبرانی میڈیا نے خبر دی کہ جمعہ کی رات شیلی ابو ظہبی میں اپنے دوستوں کے ہمراہ ایک بار میں موجود تھے اور انہوں نے خواتین کو لیکر ایسا “غیر مہذب” رویہ اپنایا جو “ذاتی حدود سے تجاوز” تھا۔
شیلی اس سے قبل برازیل میں اسرائیلی سفیر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، جہاں وہ دو مختلف اسکینڈلز کا مرکز بنے۔
ایک معاملے میں وہ سابق برازیلی صدر جائر بولسونارو کے ساتھ عشائیے میں شریک تھے۔ انسٹاگرام پر شیئر کی گئی تصویر میں ان کے کھانے میں جھینگا موجود تھا، جسے بعد میں سیاہی سے چھپا دیا گیا۔ یاد رہے کہ یہودیت کے کوشر قوانین کے تحت جھینگا کھانا ممنوع ہے۔
2023 میں اخبار “ہارٹز” نے خبر دی کہ شیلی نے ایک برازیلی خاتون کی اسرائیلی ویزا کی درخواست پر ذاتی طور پر ردعمل دیا اور اسے ویڈیو کال میں کہا کہ وہ ویزا کی منظوری سے قبل ان سے ملاقات کرے۔ ویڈیو کال میں شیلی بغیر قمیص کے بستر پر لیٹے ہوئے نظر آئے۔
خاتون نے بتایا کہ جب میں نے کیمرہ آن کیا تو وہ بستر پر لیٹے پسینے میں شرابور تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ابھی چہل قدمی سے واپس آئے ہیں۔ یہ بہت غیر مناسب تھا۔ میں نے کہا کہ ہم بعد میں بات کر لیں، تو انہوں نے کہا کہ نہیں، ابھی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے ملاقات اور عشائیے کی دعوت دی۔ مجھے دباؤ اور ہراسانی محسوس ہوئی۔
بعد میں شیلی کو اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا۔ نومبر 2024 میں انہیں یو اے ای میں اسرائیلی سفیر تعینات کیا گیا۔
اس وقت وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا: “یوسی نے برازیل میں بہت مؤثر سفیر کے طور پر کام کیا۔ انہوں نے وہاں صدر اور میڈیا سے اچھے تعلقات بنائے اور وزیر اعظم کے دفتر میں بھی اہم اور مشکل کام سر انجام دیے۔”
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








