برطانیہ نے اپنے پناہ گزین نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں جس کے تحت پناہ گزین کا درجہ اب عارضی ہوگا اور مستقل رہائش تک پہنچنے کا راستہ 20 سال تک بڑھا دیا گیا ہے۔
لیبر حکومت نے یہ اصلاحات ایک سخت امیگریشن پالیسی کے تحت متعارف کرائی ہیں جس کی بنیاد غیر قانونی چھوٹے جہاز کے ذریعے آنے والے مہاجرین کے بڑھتے ہوئے خدشات اور ریفارم یو کے پارٹی کے سیاسی دباؤ پر رکھی گئی ہے۔ ہوم آفس نے کہا کہ وہ ڈنمارک کے سخت پناہ گزین ماڈل کے عناصر کو اپنائے گا۔
نئے قواعد کے مطابق پناہ گزین جو کام کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں مگر کام نہیں کرتے اور وہ جو قانون توڑتے ہیں، انہیں حکومت کی طرف سے رہائش یا ہفتہ وار الاؤنس نہیں دیا جائے گا۔ حکام نے کہا کہ مالی مدد صرف ان افراد کو دی جائے گی جو معیشت اور کمیونٹی میں مثبت کردار ادا کریں۔
ہوم سیکریٹری شبانہ محمود نے کہا کہ پچھلا نظام پانچ سال کے بعد رہائش کی اجازت دیتا تھا جسے حکومت ختم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
وہ پیر کے روز مزید تبدیلیاں بھی اعلان کرنے کی توقع رکھتی ہیں، جن میں یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق کے آرٹیکل 8 کے نفاذ پر نئی رہنمائی شامل ہوگی۔
ایک سو سے زائد چیریٹیز نے حکومت کے اس اقدام پر تنقید کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ نئی پالیسیز مہاجرین کو بدنام کرنے اور معاشرتی مخالفت کو بڑھاوا دینے کا سبب بن سکتی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








