انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک کی حکومت نے خواتین کے حقوق میں ایک اہم اقدام کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ مختلف شعبوں میں کام کرنے والی خواتین ماہواری کے دوران ایک دن کی چھٹی لے سکیں گی اور اس دوران ان کی تنخواہ میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق نئی پالیسی کے تحت سرکاری اور پرائیویٹ شعبے میں کام کرنے والی 18 سے 52 سال کی خواتین ماہواری کے دن ایک دن کی چھٹی حاصل کر سکیں گی جو آگے نہیں بڑھائی جا سکتی۔
چھٹی لینے کے لیے کسی میڈیکل سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہوگی۔ حکام کے مطابق اس سے چار لاکھ خواتین استفادہ کر سکیں گی مگر گھریلو ملازمت، یومیہ اجرت یا مزدوری کرنے والی خواتین اس سہولت سے محروم رہیں گی جن کی تعداد تقریباً 60 لاکھ بتائی گئی ہے۔
کرناٹک میں ماہواری کی چھٹی کی اہمیت اس بات میں بھی ہے کہ اس میں نجی شعبے کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک جیسے اسپین، جاپان، جنوبی کوریا اور انڈونیشیا پہلے ہی ماہواری کی چھٹیاں فراہم کرتے ہیں، جبکہ بھارت میں بھی کچھ ریاستیں یہ سہولت دیتی ہیں جن میں بہار، اڑیسہ اور کیرالہ شامل ہیں۔
حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک ضروری حق ہے جو خواتین کو ماہواری کے دوران تنخواہ میں کٹوتی کے بغیر کام کرنے سے آزاد کرے گا۔ کرناٹک کے وزیر محنت سنتوش لاڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ خواتین کے لیے سب سے ترقی پسند پالیسیوں میں سے ایک ہے اور حکومت اس پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔
اس پالیسی پر عمل درآمد کے حوالے سے خدشات بھی ہیں کیونکہ بھارت کے کئی حصوں میں ماہواری کو اب بھی ’ناپاکی‘ سمجھا جاتا ہے۔ خواتین کو مندروں میں جانے سے روکا جاتا ہے یا انہیں گھر میں الگ رکھا جاتا ہے۔
آئی ٹی اور صنعتی شعبوں میں کام کرنے والی خواتین نے کہا کہ معاشرتی رویوں کی وجہ سے چھٹی مانگنا ابھی بھی مشکل ہو سکتا ہے۔ سماجی ماہر پشپیندر نے کہا کہ اصل چیلنج ماہواری سے جڑے سماجی داغوں سے لڑنا ہے، نہ کہ صرف چھٹی دینا۔
کرناٹک میں خواتین کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی لوگوں کو ماہواری کے بارے میں بات کرنے میں زیادہ آرام دہ بنا سکتی ہے۔ ایک ٹیچر شریا شری نے کہا کہ اس سہولت کا نام دینے سے بدنامی سے لڑنے میں مدد ملتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








