اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم کا دورہ پاکستان دونوں ممالک کے دو طرفہ تاریخی و برادرانہ تعلقات میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دوران صدر مملکت آصف علی زرداری نے شاہِ اردن کو نشانِ پاکستان سے نوازا جو پاکستان کا اعلیٰ ترین سول اعزاز ہے۔ یہاں یہ اعتراف ضروری ہے کہ شاہِ اردن کے اس ہائی لیول دورے کے نتیجے میں ملک کی سفارتی و عسکری ٹریجکٹری میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ ذکر ایک بار پھر، کہ اردن وہ پانچواں ملک تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کیا اور پاکستان نے اس ملک کی عسکری مدد کیلئے 70 کی دہائی میں اپنی افواج بھیجیں، سو یہ کہنا حق بجانب ہوگا کہ پاکستان اور اردن کے تاریخی و برادرانہ تعلقات سالوں پر نہیں، بلکہ عشروں پر محیط ہیں۔
اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم نے گزشتہ روز پاکستان کے دفاعی ادارے گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز کا دورہ کیا۔ ان کے ہمراہ شہزادی سلمیٰ بنت عبداللہ، سول و عسکری حکام کا اعلیٰ سطحی وفد بھی موجود تھا۔اس موقعے پر فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر نے پرجوش استقبال کیا، تفصیلی بریفنگ دی اور پاکستان کی مقامی دفاعی پیداوار، تکنیکی جدت اور اردن کے ساتھ دو طرفہ دفاعی تعاون کو مزید پروان چڑھانے پر گفتگو کی۔اپنی کمانڈر اِ ن چیف اور فیلڈ مارشل کی وردی میں ملبوس شاہِ اردن نے ٹلہ فائرنگ رینج کا بھی دورہ کیا، اس موقعے پر وزیراعظم شہباز شریف موجود تھے۔ فائرنگ رینج میں زمینی، فضائی اور ملٹی ڈومین آپریشنز کا عملی مظاہرہ ہوا۔ شاہِ اردن نے مشق میں شریک جوانوں اور فضائی عملے کی پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف کی، جبکہ ماضی میں کنگ عبداللہ دوم نے رائل ملٹری اکیڈمی سینڈھرسٹ سے گریجویشن کے بعد ٹروپ لیڈر کی حیثیت سے برطانوی فوج میں خدمات بھی انجام دیں۔ اگر بہت سے نہیں تو پاکستان کے کچھ نہ کچھ جنرلز بھی اسی اکیڈمی سے گریجویشن کرچکے ہیں جو دنیا کی سب سے پرائم ملٹری اکیڈمی کہلاتی ہے۔
معرکہ حق میں بھارت کو پاکستان نے کس حیرت انگیز اور بے مثال جرأت و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شکست دی، یہ جاننے میں دنیا کے دیگر ممالک کی طرح اردن کو بھی دلچسپی رہی ہے اور کیونکہ کنگ عبداللہ دوم خود بھی فیلڈ مارشل ہیں تو ان کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے برابری کی ملٹری سطح پر گفتگو کافی دلچسپ رہی جسے دنیا بھی دلچسپی کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ یہاں ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دنیا پاکستان کی عسکری قوت کو نہ صرف دیکھ رہی ہے بلکہ سمجھ بھی رہی ہے کہ ہم نے کتنی بڑی طاقت کو شکست دی تو پاکستان کی اس لحاظ سے بھی اہمیت بڑھتی جارہی ہے اور یقیناً یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے خارجہ محاذ پر بھی کامیابیاں اور افضلیت سمیٹنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کا ذکر آئندہ آنے والے دنوں میں کیا جائے گا۔
مسئلہ فلسطین پر پاکستان اور اردن کا مؤقف نہ صرف یکساں ہے بلکہ شاہِ اردن تو فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کے خلاف تواتر سے گفتگو کرتے آئے ہیں، جو ہو بہو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بھی کلیدی نکتہ ہے۔ تاہم ایک لحاظ سے مسئلہ فلسطین پر اردن کا مؤقف پاکستان سمیت دیگر ممالک سے اس لیے الگ ہوجاتا ہے کیونکہ اردن فلسطین کا ہمسایہ ہونے کے ناطے اسرائیل کی غزہ اور بالعموم پورے فلسطین پر ہونے والی جارحیت سے براہِ راست متاثر ہوتا ہے تاہم پاکستان اور اردن کا مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل پر اصولی مؤقف یقیناً یکساں ہے۔پاکستان کا مؤقف یہ ہے کہ وہ ایک آزاد، خودمختار اور منسلک فلسطینی ریاست کے قیام کے حامی ہیں جو 1967 کی جنگ سے پہلے کی حدود پر مبنی ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف کو بنایا جائے اور دونوں ہی ممالک غزہ سمیت مقبوضہ فلسطین سے فلسطینیوں کی بے دخلی کے سخت خلاف ہیں۔
شاہِ اردن کے دورے سے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے میں مدد ملی ہے، مثال کے طور پر 16 نومبر کو دونوں مالک نے 4ایم او یوز اور ایگریمنٹ پر دستخط کیے جن میں ثقافتی تعاون کے پروگرام سے متعلق ایم او یو شامل ہے جو دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کا مقصد رکھتا ہے، جس میں مشترکہ ثقافتی سرگرمیاں اور تبادلے شامل ہوں گے۔ دوسرا ایم او یو اردن یونیورسٹی میں اردو اور پاکستان سٹڈیز کی چیئرز قائم کرنے سے متعلق ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی اور عوامی روابط مضبوط ہوں۔تیسرا ایم او یو پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن اور اردن ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن کارپوریشن کے درمیان ہوا جو میڈیا شعبے میں تعاون کو فروغ دیتا ہے، جس میں پروگراموں کی تبادلہ اور مشترکہ پروڈکشن شامل ہیں جبکہ چوتھا ایم او یو پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن اور اردن ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن کارپوریشن کے درمیان معاہدہ ہے جوبراڈ کاسٹنگ کے شعبے میں تعاون پر مبنی ہے، جو ریڈیو اور ٹیلی ویژن مواد کی اشتراک اور تکنیکی مدد کو یقینی بنائے گا۔
یہی نہیں، بلکہ اردن کے ساتھ بہتر تعلقات پاکستان کو شام اور لبنان سمیت پورے خطے میں بہتر سفارتی پوزیشن میں لانے کا سبب بنیں گے جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے الفاظ میں کہا جائے تو دونوں ممالک خطے کے امن اور استحکام کیلئے کوشاں ہیں۔
اب سے کچھ ہی گھنٹوں بعد متوقع طور پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل غزہ کے معاملے پر ایک اہم قرارداد کی منظوری دے گی جس کا مقصد فلسطینیوں کو ریلیف دینا ہے اور توقع یہ بھی ہے کہ اس قرارداد میں مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی جانب بھی پیشرفت ہوگی، جس کے بعد آنے والے کچھ دنوں میں غزہ میں پاکستان سمیت دیگر ممالک کی افواج پر مشتمل انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس غزہ میں تعینات ہوجائے گی۔ یوں بحیثیت مجموعی شاہِ اردن کا یہ دورہ بہت اہمیت کا حامل ہے اور یہ اہمیت آنے والے دنوں میں مزید واضح ہوتی چلی جائے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں