برطانیہ کی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے امیگریشن کے حوالے سے نئے اور سخت ضوابط کا اعلان کیا ہے۔
لیبر پارٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں مستقل رہائش حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کو اعلیٰ درجے کی انگریزی زبان پر عبور، بے داغ مجرمانہ ریکارڈ اور کمیونٹی سروس میں خدمات لازمی فراہم کرنا ہوں گی۔
وزیر داخلہ نے وضاحت کی کہ اس وقت تارکین وطن پانچ سال مکمل کرنے کے بعد مستقل رہائش کے لیے درخواست دے سکتے ہیں تاہم لیبر پارٹی کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ اس مدت کو بڑھا کر دس سال کر دیا جائے، تاکہ مزید سختی پیدا ہو۔
ان نئے قواعد کے تحت ایسے افراد جو اچھی آمدنی یا سماجی انضمام کے تقاضے پورے کرتے ہیں، ان کے لیے مستقل رہائش حاصل کرنے کی مدت کم کی جا سکتی ہے لیکن اگر کوئی درخواست گزار کسی مرحلے پر ضوابط کی خلاف ورزی کرے گا تو نہ صرف اسے زیادہ انتظار کرنا پڑے گا بلکہ اس کی درخواست بھی مسترد کی جا سکتی ہے۔
شبانہ محمود نے اپنے خطاب میں کہا کہ اب مستقل رہائش کے لیے درخواست دہندگان کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ معاشرے کے لیے کس حد تک کارآمد ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت ان افراد کو مستقل رہائش دینے پر غور کر رہی ہے جن کا ریکارڈ کمیونٹی میں رضاکارانہ خدمات فراہم کرنے کا ہو۔ ان تجاویز پر باضابطہ مشاورت رواں سال کے آخر میں شروع ہوگی۔
وزیر داخلہ کے مطابق مائیگریشن آبزرویٹری کے تخمینے کے مطابق اس وقت برطانیہ میں تقریباً 45 لاکھ افراد مستقل رہائش رکھتے ہیں جن میں تقریباً 4 لاکھ 30 ہزار غیر یورپی شہری شامل ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








