روس اور یوکرین کے قریب واقع یورپی ملک لٹویا کی وزیراعظم ایویکا سیلینا نے بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کے باعث اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ چند روز قبل یوکرین کے چند جنگی ڈرونز روس میں تباہی پھیلانے کے بجائے لٹویا میں آ گرے تھے، جس کے بعد ملک میں سیاسی ہلچل پیدا ہوئی، اور یہی صورتحال اب وزیراعظم کے استعفے اور حکومتی اتحاد کے خاتمے تک جا پہنچی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق لٹویا کی حکمران دائیں بازو کی جماعت ’نیو یونٹی‘ سے وابستہ وزیراعظم ایویکا سیلینا نے جمعرات کے روز ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں وزارتِ عظمیٰ چھوڑنے کا اعلان کیا۔
سیاسی بحران کی ابتدا اس وقت ہوئی جب 7 مئی کو یوکرین کے دو عسکری ڈرونز روس کی حدود سے گزر کر لٹویا کی فضائی حدود میں داخل ہوگئے اور مشرقی شہر ’ریزیکنے‘ میں واقع ایک آئل ڈپو کے خالی ٹینکوں سے ٹکرا کر تباہ ہوگئے۔
یوکرین کے وزیر خارجہ کے مطابق ان ڈرونز کا اصل ہدف روس کے اندر موجود تیل کے ذخائر تھے، تاہم روسی فوج کے الیکٹرانک وارفیئر نظام، اور سگنلز جام کرنے والے آلات کی مداخلت کے باعث ڈرون اپنا راستہ تبدیل کر بیٹھے اور نیٹو کے رکن ملک لٹویا میں جا گرے۔
اس واقعے کے بعد لٹوین حکومت کو شدید عوامی اور سیاسی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیراعظم ایویکا سیلینا نے اینٹی ڈرون دفاعی نظام کی ناکامی پر وزیر دفاع اینڈرس سپروڈز سے استعفیٰ طلب کیا، جس کے نتیجے میں انہوں نے 10 مئی کو اپنا عہدہ چھوڑ دیا جبکہ یہ اقدام وزیراعظم کے عہدے کو بھی کمزور کرگیا۔
مستعفی ہونے والے وزیر دفاع کا تعلق حکومتی اتحادی جماعت ’پروگریسیوز پارٹی‘ سے تھا۔ اپنے رہنما کو عہدے سے ہٹائے جانے پر پارٹی نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بدھ کے روز حکومت سے حمایت واپس لینے کا اعلان کر دیا۔
اس فیصلے کے بعد ایویکا سیلینا کی حکومت پارلیمان میں اپنی اکثریت برقرار نہ رکھ سکی، جس کے باعث اتحادی حکومت عملاً ختم ہوگئی۔ اکتوبر 2026 میں متوقع عام انتخابات سے چند ماہ پہلے حکومت کے بحران میں گھرنے اور پارلیمانی حمایت ختم ہونے کے بعد وزیراعظم کو مستعفی ہونے کا اعلان کرنا پڑا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں ایویکا سیلینا نے کہا کہ وزارتِ عظمیٰ چھوڑنے کا فیصلہ مشکل ضرور ہے، لیکن یہی ایک دیانتدارانہ راستہ تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حالات میں بعض سیاسی قوتوں نے قومی مفاد کے بجائے ذاتی خواہشات اور حسد کو ترجیح دی۔ ان کے مطابق ایک مضبوط اور پیشہ ور وزیر دفاع لانے اور مسئلے کا حل تلاش کرنے کے بجائے سیاسی بحران کو ہوا دی گئی۔
یورپی میڈیا رپورٹس کے مطابق لٹویا میں روسی نژاد شہریوں کی بھی بڑی تعداد آباد ہے، جس کے باعث وہاں یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ اگر روس یوکرین میں کامیاب ہوا تو بالٹک ریاستیں، جن میں لٹویا بھی شامل ہے، ماسکو کے اگلے ممکنہ اہداف بن سکتی ہیں۔ اسی وجہ سے لٹویا یوکرین کی کامیابی کو اپنی قومی سلامتی کیلئے ناگزیر سمجھتا ہے۔
یہی سبب ہے کہ لٹویا اپنی مجموعی قومی پیداوار کے تناسب سے یوکرین کو سب سے زیادہ فوجی اور مالی امداد فراہم کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ برطانیہ کے ساتھ مل کر اس نے یوکرین کیلئے ’بین الاقوامی ڈرون اتحاد‘ بھی قائم کیا، جس کا مقصد لاکھوں جنگی ڈرونز کی فراہمی ہے۔ اس کے علاوہ لٹویا یوکرین کو اینٹی ایئر کرافٹ میزائل اور گولہ بارود بھی مسلسل فراہم کرتا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








