جسمانی اعضاء کو اندر سے دیکھنے کیلئے الٹرا ساؤنڈ اسٹیکر ایجاد

تازہ ترین

تازہ ترین

جسمانی اعضاء کو اندر سے دیکھنے کیلئے الٹرا ساؤنڈ اسٹیکر ایجاد

ایم آئی ٹی انجینئرز نے جسمانی اعضاء کو اندر سے دیکھنے کیلئے الٹرا ساؤنڈ اسٹیکر ایجاد کیا ہے جس سے دل، پھیپھڑوں اور دیگر اندرونی اعضاء کی واضح تصاویر حاصل کی جاسکیں گی۔

عموماً جب ڈاکٹروں کو مریض کے اندرونی اعضاء کی براہِ راست تصاویر کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ اکثر الٹرا ساؤنڈ امیجنگ کا استعمال کرتے ہیں تاکہ جسمانی کاموں میں مداخلت نہ کرتے ہوئے تربیت یافتہ تکنیکی ماہرین کی مدد سے الٹرا ساؤنڈ کی لہروں کے ذریعے تصاویر حاصل کی جاسکیں۔

یہ بھی پڑھیں:

خیبرپختونخوا پولیس کی موبائل فون ایپ متعارف

الٹرا ساؤنڈ کا استعمال کرتے ہوئے مریض کے دل، پھیپھڑوں اور دیگر اعضاء کی ہائی ریزولوشن تصاویر بنا لی جاتی ہیں تاہم الٹرا ساؤنڈ امیجنگ کیلئے جن بھاری بھرکم اور خصوصی آلات کی ضرورت پڑتی ہے وہ ہسپتالوں میں ہی دستیاب ہیں۔ ایم آئی ٹی انجینئرز نے اس تکنیک کو مزید بہتر بنانے پر کام کیاہے۔

آج سے 3 روز قبل سائنس جرنل میں شائع کیے گئے مقالے میں نئے الٹرا ساؤنڈ اسٹیکر کا ڈیزائن پیش کیا گیا۔ ڈاک ٹکٹ کے سائز کا یہ آلہ انسانی جلد سے چپک جاتا ہے جس کے ذریعے 48 گھنٹوں تک اندرونی اعضاء کی تصاویر مسلسل حاصل کی جاسکتی ہیں جس کے استعمال میں مریضوں کو بھی آسانی ہوگی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ اسٹیکرز کو رضا کاروں کی جلد پر لگایا گیا جن سے خون کی بڑی شریانوں، دل، پھیپھڑوں اور معدے جیسے گہرائی میں پائے جانے والے اعضاء کی براہِ راست ہائی ریزولوشن تصاویر حاصل کی گئیں جبکہ اس دوران رضا کار اپنے روزمرہ کے کام بھی سرانجام دیتے رہے۔

رضا کاروں نے بیٹھنے، کھڑے ہونے، جاگنگ اور بائیک چلانے سمیت مختلف سرگرمیوں کے دوران اسٹیکرز کا استعمال کیا جو مضبوطی سے انسانی جسم سے چپکے رہے اور جسمانی اعضاء میں ہونے والی تبدیلیوں کو بھی نوٹ کیا جسے میڈیکل سائنس میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جاسکتا ہے۔ 

Related Posts