عمیری لیک اپنے انجام کو پہنچنے لگی! فحش ویڈیو کیس میں پولیس کی تہلکہ خیز کارروائی؛ عمیر چیمہ اور معشوقہ گرفتار

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

گوجرانوالہ میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی غیر اخلاقی فحش ویڈیو کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم عمیر چیمہ عرف عمیری اور اس کے ساتھ ملوث خاتون (ت) کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ دونوں افراد کے خلاف زنا کے مقدمات بھی درج کر لیے گئے ہیں۔

ابتدائی طور پر سی سی ڈی (کرائم کنٹرل دپارٹمنٹ) نے واضح کیا کہ یہ زنا بالرضا کا کیس ہے اس لیے وہ اس پر کوئی کارروائی نہیں کر سکتے تاہم سٹی پولیس آفیسر ڈاکٹر سردار غیاث گل خان کے نوٹس پر گوجرانوالہ پولیس نے تفتیش کا آغاز کیا۔

 

ایس۔ایچ۔او سید قیصر عباس شاہ کی سربراہی میں پولیس نفری کے ہمراہ خاتون کو گرفتار کیا گیا۔ تھانہ اروپ پولیس نے جدید سائنٹیفک طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے ملزمہ کو ٹریس کیا اور مقدمہ درج کیا۔

ویڈیو میں نظر آنے والے مرد ملزم کی گرفتاری کے لیے ڈی ایس پی کینٹ کی زیر نگرانی خصوصی پولیس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ سٹی پولیس آفیسر ڈاکٹر غیاث گل خان نے کہا کہ مقدمے کی تفتیش میرٹ پر کی جائے گی اور ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دلائی جائے گی۔

Image

واضح رہے کہ عمیری کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے بعد ویڈیو میں شامل خاتون بھی مقدمہ میں نامزد ہو گئی تھی اور پولیس نے اسے بھی گرفتار کر لیا۔

عمیری لیک ویڈیو کا معاملہ کیا ہے؟

پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ایک مبینہ نازیبا ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی جسے صارفین نے عمیری لیک کا نام دیا۔ تقریباً 7 منٹ 11 سیکنڈ طویل ویڈیو میں ایک نوجوان شخص جسے عمیری کہا جا رہا ہے ایک شادی شدہ خاتون کے ساتھ ازواجی عمل میں ملوث دکھائی دے رہا ہے۔

ویڈیو میں ایک شادی شدہ خاتون نشے کی حالت میں عمیری نامی شخص سے غیر قانونی طور پر ازواجی عمل میں مصروف ہے جبکہ اس دوران خاتون عمیری نامی شخص سے سے بار بار نکاح کرنے کی بات کرتی نظر آتی ہے۔

اس دوران خاتون شدید غصے کی حالت میں اپنے شوہر، والدین اور بھائیوں پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتی ہے اور کہتی ہے کہ اس کی شادی ایک ایسے شخص سے کروائی گئی جو اس کی ضروریات پوری نہیں کر سکتا۔

ویڈیو میں خاتون کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ ویڈیو بنا کر میرے بھائیوں اور والد کو بھیج دو جبکہ عمیری کا جواب ہے کہ اگر سرمایہ ہوتا تو دو سال پہلے نکاح کر لیتا۔ نشے میں دھت خاتون کہتی ہےکہ میں عمیری دے نال آں، دنیا مر دی اے بھاوے ساری مر جاوے، پر میں عمیری دے رومانس توں بغیر نئی رہ سکدی۔

اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ایکس پر میمز، جوکس اور طنزیہ پوسٹس کا سیلاب آ گیا ہے جبکہ کئی صارفین کی جانب سے خاتون کے بھائیوں کو قصوروار ٹھہرایا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی ویڈیوز اکثر ہیکنگ، بلیک میلنگ یا ذاتی انتقام کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ایکس پر کئی پوسٹس میں جعلی لنکس شیئر کیے جا رہے ہیں جو وائرس یا فراڈ کا سبب بن سکتے ہیں۔

سائبر کرائم ایکسپرٹس نے خبردار کیا ہے کہ حساس مواد شیئر کرنا یا مشکوک لنکس پر کلک کرنا قانونی طور پر جرم ہے اور پیکا ایکٹ کے تحت سخت سزا ہو سکتی ہے۔ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے ماضی میں ایسے کیسز میں کارروائی کی ہے لیکن اس مخصوص ویڈیو پر ابھی کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔

یہ تنازعہ سوشل میڈیا پر تفریح کا ذریعہ بن گیا ہے لیکن یہ ڈیجیٹل پرائیویسی، اخلاقیات اور سائبر سیکیورٹی کے سنگین مسائل کی طرف بھی اشارہ کر رہا ہے۔ صارفین سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ ایسی ویڈیوز شیئر کرنے سے گریز کریں اور پرائیویسی کا احترام کریں۔

Related Posts