زن مریدی زندہ باد، عورت کی خدمت زندہ باد۔۔۔۔ یہ وہ غیر روایتی نعرے ہیں، جو پاکستان جیسے پدرسری معاشرے میں لاہور کا ایک غیر روایتی مرد بڑے فخر سے بلند کرتا ہے۔
عامر نامی لاہور کا یہ غیر روایتی مرد فخریہ کیمرے کے سامنے خود کو نہ صرف زن مرید کہتا ہے بلکہ کیمرے کے سامنے ہی اپنی بیوی کی خدمت کرتے ہوئے یہاں تک کہ اس کے پاؤں دھو کر پیتے ہوئے عملا بھی دنیا کو دکھاتا ہے۔
زن مریدی کو کلاہ فخر بنانے والا پہلوان سا نظر آنے والا یہ لہوریا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر اپنی بیوی سے شدید محبت اور خدمت کے نام پر عام لوگوں کے نزدیک سطحی حرکتوں کیلئے مشہور ہے اور ان کی ویڈیوز کو دنیا بھر سے لاکھوں لوگ شغل، شوق اور تفریح کیلئے دیکھتے ہیں۔
ایم ایم نیوز نے ان سے ملاقات کی اور زن مریدی کی وجوہات جاننا چاہیں، تو ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی برائی نہیں ہے کہ مرد اپنی بیوی کی خدمت کرے، جیسے یہ بھی ایک نارمل سی بات سمجھی جاتی ہے کہ بیوی شوہر کی خدمت کرتی ہے۔
ایم ایم نیوز نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ آن کیمرا یہ حرکتیں فیم، ویوز لینے اور شہرت حاصل کرنے کیلئے کرتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی بات نہیں، انہیں پیسوں کیلئے ایسا کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک فوک سنگر ہیں اور ایک پروگرام کے ڈیڑھ لاکھ روپے تک کی ڈیمانڈ کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ویوز اور پیسوں کیلئے تو میں گانا گاتا ہوں اور میری گانوں کی ویڈیوز لاکھوں ویوز لیتی ہیں، ایسے میں مجھے بیوی کے ساتھ اظہار محبت کے نام پر محض ویوز کیلئے ان حرکتوں کو آن کیمرا کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں سچے دل سے اپنی بیوی کی خدمت کرتا ہوں، کیونکہ بیوی شوہر اور مرد کو جو سکون اور پیار دے سکتی ہے وہ کوئی دوسرا رشتہ کسی صورت نہیں دے سکتا۔ ایسے میں یہ بیوی کا حق ہے کہ اس کی خدمت کی جائے، اسے پیار و محبت کے ساتھ گھر میں رکھا جائے، اسی سے زندگی خوشگوار گزرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں بیوی کی ہر خدمت بجالاتا ہوں، بیوی کو میں نے حقیقی معنی میں ملکہ کی طرح رکھا ہوا ہے اور نوکر کی طرح برتن، کپڑے دھونے سے لیکر جھاڑو پونچھا کرنے تک تمام کام بخوشی انجام دیتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں معاشرے کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ بیوی کو محض نوکرانی بنا کر رکھنا درست نہیں، جس طرح بیویاں شوہروں کی خدمت کرتی ہیں، ایسے ہی شوہر بھی اپنی بیویوں کی خدمت کریں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اس موقع پر ان کی بیگم نے بھی بات چیت میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ شوہر اپنی بیوی کی خدمت کرے، گھر کے کاموں میں اس کا ہاتھ بٹائے، یہ درست نہیں کہ بیوی نوکرانی بن کر رہے۔ اصل غلط بات یہ ہے کہ میاں کام کاج سے تھکا ہارا گھر آئے تو بیوی گھر کے کاموں سے تھکی ہاری بے رخی سے اس کا استقبال کرے۔
زن مریدی میں تمام حدیں پار کرنے والے عامر کا کہنا تھا کہ ہر مرد کی طرح میں بھی چاہتا ہوں کہ میری بیٹی کو میرا داماد شہزادیوں کی طرح رکھے، میری بیوی بھی تو کسی کی بیٹی ہے، اب اگر میں اسے شہزادیوں اور ملکہ کی طرح رکھ رہا ہوں تو اس پر ناک بھوں چڑھانے کی کیا بات ہے۔
عامر کا کہنا تھا کہ پہلے میں گلوکاری سے ایک لاکھ روپے تک فی پروگرام کماتا تھا، مگر زن مریدی کی شہرت ملنے کے بعد میری ڈیمانڈ میں بھی اضافہ ہوگیا ہے اور زن مریدی کی برکت سے گلوکاری کی کمائی میں اب دو لاکھ روپے فی پروگرام تک اضافے کی توقع ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








