کراچی میں سائنو فام ویکسین کا غیرمنصفانہ استعمال، ذمہ دار کی معطلی کی سفارش

تازہ ترین

تازہ ترین

کراچی میں سائنو فام ویکسین کا غیرمنصفانہ استعمال، ذمہ دار کی معطلی کی سفارش
کراچی میں سائنو فام ویکسین کا غیرمنصفانہ استعمال، ذمہ دار کی معطلی کی سفارش

کراچی کے علاقے ضلع وسطی میں قائم کووڈ -19 ویکسینیشن سینٹر میں سائنو فام ویکسین کا غیر منصفانہ استعمال ثابت ہوگیا ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی نے آفس اسسٹنٹ آفاق الدین کو فی الفور معطل کرکے محکمہ جاتی انضباطی کاروائی کی سفارش کر دی ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی نے چیک اینڈ بیلنس نہ رکھنے پر ڈی ایچ او ضلع وسطی ڈاکٹر مظفر اوڈھو کو بھی غفلت کا مرتکب قرار دیا ہے ۔ ضلع وسطی میں سائنو فام کے غیر منصفانہ استعمال پر قائم تین رکنی کمیٹی نے جمعے کو اپنی رپورٹ محکمہ صحت کو جمع کرادی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تحقیقات کے دوران سائنو فام ویکسین کے ایسے وائلز ملے جن کا ریٹارڈ نمبر  (نیشنل ایمونائزیشن مینیجمنٹ سروس) میں موجود نہیں تھا جس پر آفس اسسٹنٹ آفاق الدین نے تسلیم کیا کہ اس نے ویکسین کا غیر منصفانہ استعمال کیا۔

کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں محکمہ صحت کو سفارش کی ہے کہ آفاق الدین کو فی الفور معطل کرکے ہر طرح کے کاموں بالخصوص کورونا ویکسین کے امور سے روکا جائے اور محکمہ جاتی انضباطی کاروائی عمل میں لائی جائے۔

کمیٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ ڈی ایچ او کو ویکسین کے استعمال میں شفافیت کو یقینی بنانا تھا۔  ویکسین کاچیک اینڈ بیلنس رکھنا ڈی ایچ او کی ذمہ داری ہے جس میں وہ ناکام رہے۔

یاد رہے کہ کووڈ -19 ویکسی نیشن سینٹر ضلع وسطی گوہرآباد کی فوکل پرسن ڈاکٹر حرا ظہیر نے سیکریٹری صحت سندھ کو شکایت کی تھی کہ ضلع وسطی میں سائنو فارم ویکسین کا غیر منصفانہ استعمال کیا جارہا ہے اور آفس اسسٹنٹ آفاق الدین اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے ویکسین گھروں میں لگوا رہے ہیں اور پیسے بھی وصول  کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ سائنو فام ویکسین ایسے کم عمر نوجوانوں کو لگائی جارہی ہے جنہوں نے غیرممالک میں ملازمت یا تعلیمی کے سلسلے میں جانا ہے۔ اور جہاں مرضی ویکسین منتقل کرکے لگانے کے پیسے وصول کیے جا رہے ہیں۔ جس پر محکمہ صحت نے تحقیقات کے لئے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ جمعے کو سفارشات کے ہمراہ جمع کرائی تھی۔

یہ بھی پڑھیں :ووگ کے سرورق پر ملالہ یوسفزئی کی تصویر پر ماہرہ خان کا خوشی کا اظہار

Related Posts