کابل ائیرپورٹ دھماکوں میں طالبان ملوث تھے یا نہیں، کہہ نہیں سکتے۔امریکی جنرل

تازہ ترین

تازہ ترین

کابل ائیرپورٹ دھماکوں میں طالبان ملوث تھے یا نہیں، کہہ نہیں سکتے۔امریکی جنرل
کابل ائیرپورٹ دھماکوں میں طالبان ملوث تھے یا نہیں، کہہ نہیں سکتے۔امریکی جنرل

امریکی مرکزی کمانڈ کے کمانڈر جنرل مکینزی نے کہا ہے کہ کابل ائیرپورٹ دھماکوں میں طالبان ملوث تھے یا نہیں، یہ نہیں کہا جاسکتا تاہم امریکی عوام اور فوجیوں کے انخلاء کا عمل جاری رکھا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی کمانڈر جنرل مکینزی نے کابل میں دہشت گردوں کے 2 دھماکوں پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ دھماکوں کی نوعیت اور نقصان کا اندازہ نہیں لگا سکے جبکہ تحقیقات کیلئے وقت درکار ہے۔

بریفنگ کے دوران امریکی کمانڈر نے کہا کہ ائیرپورٹ پر یکے بعد دیگرے 2 دھماکے ہوئے، ائیرپورٹ گیٹ پرخودکش دھماکہ ہوا، پھر فائرنگ بھی کی گئی۔ حملے کے نتیجے میں امریکی فوج کے 12 اہلکار ہلاک ہوئے

 کمانڈر جنرل مکینزی نے بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حملے کے نتیجے میں 15 امریکی اہلکار زخمی ہوئے۔ بڑی تعداد میں افغان شہری جاں بحق ہوئے۔ زخمی افراد کا مختلف ہسپتالوں اور ائیرپورٹ پر علاج کیا جارہا ہے۔

گفتگو کے دوران امریکی جنرل مکینزی نے کہا کہ حملے میں طالبان ملوث تھے یا نہیں، یہ نہیں کہا جاسکتا۔ ہمارا مقصد افغانستان سے بروقت انخلاء ہے جو ایک خطرناک مشن ہے جس کے دوران مزید دہشت گردی کا خطرہ ہے۔

جنرل مکینزی نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ داعش ہمارے طیاروں کو نشانہ بناسکتی ہے جن کی حفاظت ضروری ہے تاکہ حملہ نہ ہو۔ زیادہ سے زیادہ افراد کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 31اگست تک مشن کی تکمیل ہمارا مقصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اب تک 1 لاکھ 4 ہزار افراد افغانستان سے نکال چکا ہے۔ طالبان بھی چاہتے ہیں کہ 31 اگست تک امریکی عوام اور افواج کا انخلاء ممکن بنایا جائے۔ مشن مکمل کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات بروئے کار لا رہے ہیں۔ 

خیال رہے کہ اِس سے قبل افغانستان میں کابل ائیرپورٹ کے نزدیک 2 زوردار دھماکوں کے نتیجے میں 12 امریکی فوجیوں سمیت 90 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے جبکہ شدت پسند تنظیم داعش نے کابل ائیرپورٹ بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر لی۔ 

 کابل ائیرپورٹ پر گزشتہ شب دہشت گردی کے نتیجے میں 2 دھماکے ہوئے جن کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ دھماکوں کے نتیجے میں 60 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 150 سے زائد زخمی ہوگئے جنہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

مزید پڑھیں: داعش نے  بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر لی، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ

Related Posts