یمن کے دارالحکومت صنعا پر اتوار کی شب امریکی فضائی حملوں میں 12 افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہو گئے ہیں۔
یمن میں حوثی باغیوں کی وزارت صحت کے مطابق اتوار کی شب امریکی طیاروں نے صنعا کے ضلع فَروہ میں ایک بازار اور رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں درجنوں ہلاکتیں اور زخمیوں کی اطلاع ہے۔
یمنی نیوز ایجنسی کے مطابق امریکی فضائی حملے صرف دارالحکومت تک محدود نہیں رہے بلکہ وسطی صوبہ مأرب، مغربی شہر الحدیدہ اور شمالی علاقے صعدہ میں بھی کارروائیاں کی گئیں۔ ان مقامات سے تاحال کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ امریکہ گزشتہ ایک ماہ سے یمن میں تقریباً روزانہ کی بنیاد پر فضائی حملے کر رہا ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں حوثی جنگجوؤں کے خلاف کی جا رہی ہیں تاکہ خلیج میں بین الاقوامی بحری جہازرانی پر حملے روکے جا سکیں۔
اس سے قبل جمعرات کے روز یمن کے راس عیسیٰ آئل پورٹ پر ایک فضائی حملے میں 80 افراد جاں بحق اور 150 زخمی ہوئے تھے۔ دوسری جانب حوثی باغی نہ صرف امریکی فوجی طیاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ اسرائیل پر بھی حملے کر چکے ہیں۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائیاں فلسطینی عوام سے یکجہتی کے اظہار کے طور پر کی جا رہی ہیں۔
یاد رہے کہ حوثیوں نے اکتوبر 2023 میں غزہ کی جنگ کے آغاز کے بعد بحیرہ احمر، خلیج عدن اور اسرائیلی علاقوں کی جانب جانے والے جہازوں پر حملے شروع کیے تھے۔ تاہم، جنوری میں ایک عارضی جنگ بندی کے دوران یہ حملے روک دیے گئے تھے۔
مارچ کے آغاز میں اسرائیل نے غزہ کی تمام تر رسد بند کر دی اور 18 مارچ کو اپنی عسکری کارروائیاں دوبارہ شروع کر دیں، جس سے مختصر جنگ بندی کا خاتمہ ہو گیا۔
اسرائیل کی جانب سے غزہ پر دوبارہ ناکہ بندی کے بعد، حوثیوں نے بحری جہازوں پر حملے دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دی جس کے بعد امریکہ نے بھی ان کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کر دیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








