پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد کھوکھر نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے حال ہی میں اعلان کردہ 15 ارب روپے کے “کسان پیکیج” کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے کسانوں کے بحران کا حل نہیں بلکہ خیرات قرار دیا ہے۔
ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خالد کھوکھر نے کہا کہ یہ پیکیج کسانوں کی جدوجہد کا مذاق ہے اور ان کے نقصانات کی اصل نوعیت کو یکسر نظر انداز کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا، “حکومت نے 15 ارب روپے کا اعلان کرکے کسانوں کی توہین کی ہے۔ ہم کسی قسم کی سبسڈی یا خیرات نہیں چاہتے، ہم اپنی محنت کا منصفانہ معاوضہ چاہتے ہیں۔ کسانوں کو تو حکومت کی جانب سے مقرر کردہ گندم کی امدادی قیمت بھی نہیں دی جا رہی۔”
خالد کھوکھر نے خبردار کیا کہ اگر حالات نہ بدلے تو آئندہ سال کسان گندم کی کاشت سے بائیکاٹ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کسان کھربوں کے نقصان کا سامنا کر رہے ہیں اور مایوسی کے عالم میں خودکشی جیسے انتہائی اقدامات پر مجبور ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کپاس کے کاشتکار بھی شدید مشکلات میں مبتلا ہیں، حالانکہ حکومت نے ہی انہیں کپاس کی کاشت کی ترغیب دی تھی۔
خالد کھوکھر نے الیکٹرانک ویئرہاؤس رسید سسٹم کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے چھوٹے کسانوں پر بوجھ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا، “یورپی طرز کے یہ نظام اس وقت تک قابل عمل نہیں جب تک یورپ جیسی سہولیات نہ ہوں۔ چھوٹے کسان بیوروکریسی کی بھول بھلیوں میں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ فائدہ صرف اشرافیہ کو ہو رہا ہے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ صرف وہی امدادی قیمت جو زرعی ماہرین کے مطابق 25 فیصد منافع شامل کرکے مقرر کی جائے، کسانوں کی زندگی کو محفوظ بنا سکتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کی جانب سے صرف اسٹوریج کی سہولیات پر زور دینا بھی امیر سرمایہ داروں کے حق میں ہے، جبکہ عام کسانوں کے پاس نہ سرمایہ ہے اور نہ ہی ذخیرہ کرنے کی سہولت، جس کی وجہ سے وہ مارکیٹ کی اتار چڑھاؤ کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








