واشنگٹن: امریکا کا گزشتہ ماہ ڈرون حملے میں عام شہریوں کو ہلاک نہ کرنے کا دعویٰ غلط ثابت ہوا، امریکی جنرل نے حملے میں 10 عام شہریوں کی جان لینے کا اعتراف کرتے ہوئے واقعے پر معافی مانگ لی ہے۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ ماہ 29 اگست کے روز افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امریکا نے طالبان کی اجازت کے بغیر ڈرون حملہ کرکے داعش خراسان کے دہشت گرد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ امریکی وزیرِ دفاع نے بھی حملے پر معذرت کر لی۔
امریک وزیرِ دفاع لائڈ آسٹن نے کابل ڈرون حملے میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے اور 10 افراد کی ہلاکت کا اعتراف کرتے ہوئے افغانستان سے معافی مانگی۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سنگین غلطی سے سبق سیکھیں گے۔
جنرل کینتھ مکینزی نے کابل میں امریکی ڈرون حملے کو غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ 10عام شہریوں کی جان لینے والا ڈرون حملہ ہماری افسوسناک غلطی تھی۔ میں اس غلطی پر معافی مانگتا ہوں جبکہ یہ انکشاف سنٹرل کمانڈ کی تفتیش میں سامنے آیا۔
قبل ازیں امریکی سنٹرل کمانڈ نے 29 اگست کے ڈرون حملے کی تفتیش کی جس میں افغانستان کا امدادی کارکن اور اس کے 9 اہلِ خانہ جاں بحق ہوئے۔ حملہ کابل میں حامد کرزئی ائیرپورٹ کے قریب ہوا تاہم افغان میڈیا نے امریک دعویٰ جھوٹا قرار دے دیا۔
افغان میڈیا نے رپورٹ کی کہ امریکا کے کابل ڈرون حملے میں 7 بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے 10 افراد جاں بحق ہوئے۔ بعد ازاں امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) کو واقعے پر تحقیقات شروع کرنی پڑیں۔ جنرل مکینزی نے امدادی کارکن اور 9اہلِ خانہ کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کابل دھماکوں میں طالبان کے ملوث ہونے کا نہیں کہہ سکتے۔امریکی جنرل
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








