ڈورمور کا مطالبہ ویل ڈن میں تبدیل، امریکا نے افغان امن عمل میں پاکستان کا کردار تسلیم کرلیا

تازہ ترین

تازہ ترین

ڈورمور کا مطالبہ ویل ڈن میں تبدیل، امریکا نے افغان امن عمل میں پاکستان کا کردار تسلیم کرلیا
ڈورمور کا مطالبہ ویل ڈن میں تبدیل، امریکا نے افغان امن عمل میں پاکستان کا کردار تسلیم کرلیا

واشنگٹن: ڈو مور کا مطالبہ کرنے والے ویل ڈن پر آگئے، امریکا نے افغان امن عمل میں پاکستان کا کردار ایک بار پھر تسلیم کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغان امن عمل میں پاکستان کا کردار اہم ہے۔ امن عمل کیلئے پاکستان افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لایا۔

ڈو مور کے برعکس گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ ہم مستحکم جنوبی ایشیاء کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہیں۔ کئی سالوں سے امریکا پاکستان کے ساتھ مل کر مشترکہ مفادات کیلئے کام کررہا ہے۔

دہشت گردی کی جنگ پر روشنی ڈالتے ہوئے ترجمان امریکی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور امریکا دونوں کے انسدادِ دہشت گردی سے متعلقہ مفادات مشترکہ ہیں۔ افغان امن عمل کو آگے بڑھانے میں پاکستان کا کردار اہم ہے۔

ترجمان امریکی وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ افغانستان کا مسئلہ امریکا اکیلا حل نہیں کرسکتا جبکہ افغانستان میں طاقت کے زور پر آنے والی حکومت کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ افغانستان کا بوجھ پوری عالمی برادری کو اٹھانا ہوگا۔

خیال رہے کہ اِس سے قبل بھی امریکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی خدمات کا اعتراف کیا تھا، امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں پاکستان اور امریکا کے مشترکہ مفادات ہیں۔

آج سے 7 روز قبل امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ افغانستان میں پاکستان اور امریکا مشترکہ مفادات رکھتے ہیں۔ افغان امن عمل کیلئے دونوں ممالک مشترکہ کوششیں کر رہے ہیں۔

 امریکی فوج کے افغانستان سے انخلاء کے بعد کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں امن کیلئے علاقائی تعاون اور اتفاقِ رائے اہم ہے۔

مزید پڑھیں: افغانستان میں پاکستان اور امریکا کے مشترکہ مفادات ہیں۔ امریکی محکمۂ خارجہ

بعد ازاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ اقتصادی تعاون، علاقائی امن اور دو طرفہ تعاون کے لیے پرعزم ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے 6 روز قبل اپنے امریکی ہم منصب انٹونی بلنکن سے ٹیلی فونک گفتگو کی۔ وزارت خارجہ کے اعلامیے کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مزید پڑھیں: امریکا سےعلاقائی امن اور دو طرفہ تعلقات کے لیے پرعزم ہیں، شاہ محمود قریشی

Related Posts