جی20 اجلاس میں روس یوکرین امن منصوبے پر غور، امریکی بائیکاٹ کی وجوہات کیا ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

جی 20
(فوٹو: آن لائن)

جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں جی20 اجلاس کے دوران روس یوکرین امن منصوبے پر رکن ممالک کی جانب سے پیش کردہ امن منصوبے پر غور کیا گیا، جس کا امریکی حکومت نے بائیکاٹ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق ٹرمپ حکومت نے جنوبی افریقہ کی پالیسیوں کے باعث اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق 28نکاتی یوکرین امن منصوبے میں یوکرینی قیادت سے روس کے زیر قبضہ علاقوں کو تسلیم کرنے اور اپنی فوجی طاقت محدود کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوؔزہ امن منصوبے کے تحت روس کو مشرقی ڈونباس کے بعض علاقوں کا کنٹرول دینے اور یوکرین کو نیٹو میں شمولیت کے امکانات سے دستبردار ہونے کی ترغیب دی گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ منصوبہ یوکرینی صدر کو پیش کیا تھا۔

یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی کو منصوبہ پیش کرتے ہوئے امریکی صدر نے انہیں منصوبہ قبول یا مسترد کرنے کا فیصلہ 27نومبر تک کرنے کا مشورہ دیا تھا جبکہ جی 20 اجلاس کی قیادت نے منصوبے کا ایک علیحدہ اجلاس میں جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا کہ منصوبے کی حمایت کیلئے نظرثانی ضروری ہے۔

اپنے مشترکہ بیان میں جی 20 قیادت کا کہنا تھا کہ منصوبے میں شامل اہم عناصر منصفانہ اور دیرپا امن کیلئے ضروری ہیں تاہم یہ ابتدائی منصوبہ ہے جس کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ سرحدیں طاقت کے ذریعے بدلنی نہیں چاہئیں۔ بیان پر برطانیہ، فرانس، آئرلینڈ، جرمنی، نیدرلینڈز، اٹلی، اسپین، ناروے اور یورپی یونین کے نمائندوں نے دستخط کیے۔

Related Posts