ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کو بڑی ناکامی کا سامنا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بار بار اکسانے اور درخواست کے باوجود کردوں نے ایران کے خلاف لڑنے سے انکار کر دیا۔ کرد رہنماؤں نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کی سخت دھمکیوں کے باعث جنگ سے دور رہنے اور غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کرد قیادت نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کی سخت دھمکیوں کے باعث محتاط پالیسی اختیار کرتے ہوئے جنگ سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں عراقی کردستان کے دو بڑے سیاسی رہنماؤں، مسعود بارزانی اور بافل طالبانی سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا تھا اور ان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایرانی کرد گروپوں کو ایران کے خلاف کارروائی میں مدد دیں اور سرحدی راستے کھولیں۔ تاہم کرد حکام نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر وہ جنگ میں شامل ہوئے تو ایران کی طرف سے شدید فوجی ردعمل آ سکتا ہے جس سے پورا خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران پہلے ہی عراقی کردستان کے بعض علاقوں اور ایرانی کرد مخالف گروپوں کے ٹھکانوں پر ڈرون اور میزائل حملے کر چکا ہے، جن میں بعض امریکی فوجی اڈے اور اربیل میں قائم امریکی قونصل خانے کے قریب علاقے بھی نشانہ بنے۔ ان حملوں کے بعد کرد قیادت مزید محتاط ہو گئی ہے اور وہ نہیں چاہتی کہ اس کی سرزمین ایران کے خلاف کسی بڑی فوجی کارروائی کے لیے استعمال ہو۔
کردستان ریجنل گورنمنٹ (KRG) کے ترجمان نے واضح بیان میں کہا ہے کہ عراقی کرد حکومت ایران کے خلاف کسی جنگی منصوبے کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ خطے میں جنگ کو پھیلانے کی خواہاں ہے۔ حکومت نے زور دیا کہ اس کی ترجیح خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنا ہے۔
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بھی عراقی کردستان کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہاں سے ایران مخالف مسلح گروپوں کو کارروائی کی اجازت دی گئی تو تہران سخت ردعمل دے گا۔ اسی دباؤ کے باعث عراقی کرد قیادت فی الحال غیر جانبداری کی پالیسی پر قائم ہے اور کسی بھی براہِ راست جنگی مہم کا حصہ بننے سے گریز کر رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








