شوگر کے مریضوں اور موٹے افراد کا امریکا میں داخلہ بند کرنے کی تیاریاں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی فوٹو

ٹرمپ انتظامیہ جلد ہی ذیابیطس یا موٹاپے کے شکار تارکین وطن کو ویزا دینے سے انکار کر سکتی ہے، جو اس کے متنازعہ اقدام کے بعد سامنے آیا ہے جس میں H-1B ویزا کی فیس کو 100,000 ڈالر تک بڑھا دیا گیا تھا۔

اگرچہ اس حوالے سے کوئی سرکاری اعلان نہیں ہوا، لیکن KFF Health News کو موصول ہونے والے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک رہنما خطوط کے میمو میں ویزا مسترد کرنے کی ممکنہ وجوہات کی تفصیل دی گئی ہے۔

اس رہنما خطوط میں ویزا افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ درخواست دہندگان کے صحت کے حالات، بشمول قلبی، سانس سے متعلق اعصابی، میٹابولک اور ذہنی صحت کے مسائل کو ویزا کی جانچ کے دوران مدنظر رکھیں۔

افسران کو موٹاپے کو بھی اہمیت دینے کی ہدایت کی گئی ہے، کیونکہ یہ دمہ، نیند میں خلل (sleep apnea) اور بلڈ پریشر جیسی بیماریوں سے منسلک ہے، تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ ویزا درخواست دہندہ کسی پبلک چارج (سرکاری امداد پر انحصار) کا سبب تو نہیں بنے گا۔

مزید برآں درخواست دہندگان کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کے پاس طویل مدتی طبی دیکھ بھال کے اخراجات کو خود برداشت کرنے کے لیے کافی مالی وسائل موجود ہیں اور وہ حکومت کی مدد پر انحصار نہیں کریں گے۔ میمو میں زور دیا گیا ہے کہ یہ جائزہ لیا جائے کہ آیا تارکِ وطن اپنی متوقع زندگی کے دوران صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات خود برداشت کر سکتا ہے یا نہیں۔

اس سے قبل محکمہ محنت نے ممکنہ H-1B ویزا کے غلط استعمال کی تحقیقات کے لیے 175 تحقیقات شروع کیں، جو اس کے “پروجیکٹ فائر وال” اقدام کا حصہ ہے، جو ویزا فیس میں اضافے کے بعد متعارف کرایا گیا۔ انتظامیہ نے حال ہی میں غیر ملکی غیر تارکین وطن کارکنوں کے لیے خودکار ورک پرمٹ کی توسیع بھی ختم کر دی ہے، جس سے بھارتی درخواست دہندگان پر خاصا اثر پڑنے کی توقع ہے۔

Related Posts