امریکا کا مشرقِ وسطیٰ میں ایٹمی آبدوز اور بحری جہاز کی تعیناتی کا حکم

تازہ ترین

تازہ ترین

بحری جہاز
(فوٹو: آج نیوز)

واشنگٹن: امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال کی کشیدگی کے پیشِ نظر ایٹمی آبدوز اور بحری جہاز کی تعیناتی کا حکم دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مشرقِ وسطی میں کشیدہ صورتحال کے تناظر میں امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے میزائل بردار آبدوز اور ابراہم لنکن طیارہ بردار جنگی بحری جہاز تعینات کرنے کا حکم دے دیا۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ تعینات کی گئی آبدوز ایٹمی ہے۔

پینٹاگون کی جانب سے یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب امریکا اور دیگر اتحادی اسرائیل اور حماس پر غزہ میں جنگ بندی کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ جنگ بندی حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ہنیہ سمیت 2 کمانڈرز کے قتل کے بعد کشیدگی کم کرسکتی ہے۔

امریکی فوج کی جانب سے سوشل میڈیا پر کی گئی پوسٹ کے مطابق ایٹمی آبدوز یو ایس ایس جارجیا بحیرہ روم میں جولائی سے ہی موجود ہے۔ آبدوز کی تعیناتی کا اعلان غیر معمولی اقدام قرار دیا جارہا ہے۔ وزیر دفاع نے اس اقدام سے قبل اسرائیلی ہم منصب سے بات چیت بھی کی۔

اسرائیلی ہم منصب سے گفتگو کے بعد پینٹاگون کی جانب سے سامنے آنے والے بیان میں کہا گیا کہ وزیر دفاع نے ابراہم لنکن اسٹرائیک گروپ کو علاقے میں فوری تعینات کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ امریکی فوج پہلے ہی کہہ چکی تھی کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں سازوسامان بڑھائے گی۔

فوج کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں اضافی لڑاکا طیاروں اور بحریہ کے جنگی جہازوں کی تعیناتی کا کہا گیا تھا۔ امریکا اب بھی غزہ کی جنگ میں فلسطینیوں کے خلاف اور اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے جو اسرائیلی دفاع مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔

ماضی میں 7اکتوبر کے بعد سے اب تک 2 طیارہ بردار بحری جہاز اسی علاقے میں روانہ کیے جاچکے ہیں جبکہ حماس اور حزب اللہ کے سینئر رہنماؤں پر حملوں کے بعد ایران اسرائیل سے بدلہ لینے کا اعلان کرچکا ہے جس کے بعد سے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کم ہوتی نظر نہیں آتی۔

Related Posts