وی ٹی او ایل ڈرونز نے طالبان کے خواب چکنا چور کردیئے! جانیے یہ ہے کیا اور کیسے کرتا ہے کام

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

پاکستانی فوج نے چمن کے قریب سرحدی علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کے ایک اور حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز نے VTOL (ورٹیکل ٹیک آف اینڈ لینڈنگ) ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے طالبان کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا جو مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

یہ کارروائی افغان سرزمین سے مسلسل ہونے والی دراندازی کے جواب میں کی گئی۔ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان عناصر نے پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جس کے بعد پاک فوج نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے متعدد اہداف کو تباہ کیا۔

VTOL ٹیکنالوجی سے لیس یہ جدید ڈرونز بغیر رن وے کے عمودی انداز میں پرواز اور لینڈنگ کر سکتے ہیں جو سرحدی اور دشوار گزار علاقوں میں فوج کو فیصلہ کن برتری دیتے ہیں۔

VTOL ڈرون ٹیکنالوجی کیا ہے؟

فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے VTOL طیارے ایسے خاص قسم کے ہوائی جہاز ہوتے ہیں جو روایتی رن وے کے بغیر زمین سے عمودی انداز میں اُڑان بھرنے، فضا میں معلق رہنے اور دوبارہ اسی انداز میں اُترنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس صلاحیت کی وجہ سے یہ طیارے محدود جگہوں جیسے بحری جہازوں یا دشوار گزار علاقوں میں بھی آسانی سے کام کرسکتے ہیں۔

VTOL طیاروں کی اقسام اور مثالیں؛

ہیلی کاپٹر؛ یہ VTOL کا سب سے عام اور پہچانا جانے والا ماڈل ہے جو اُٹھان، اُترنے اور فضا میں ٹھہرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

ٹِلٹ روٹر طیارے؛ یہ ہوائی جہاز ہیلی کاپٹر جیسی اُٹھان اور طیارے جیسی رفتار رکھتے ہیں۔ مشہور مثال V-22 Osprey ہے۔

جیٹ انجن والے طیارے؛ کچھ طیارے جیسے Harrier اپنی طاقتور جیٹ تھرسٹ کی مدد سے عمودی اُڑان بھرتے ہیں۔

بغیر پائلٹ ڈرونز (UAVs)؛ آج کے کئی جدید فوجی ڈرونز بھی VTOL صلاحیت رکھتے ہیں، جو انہیں جاسوسی اور دیگر آپریشنز میں مؤثر بناتے ہیں۔

VTOL طیاروں کے استعمالات؛

فوجی جوانوں اور سامان کی منتقلی

زخمیوں کو نکالنے کے لیے میڈیکل ایویاکیوایشن

بحری جہازوں سے آپریشنز کی انجام دہی

دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے جاسوسی اور نگرانی

فوائد؛

VTOL طیاروں کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انہیں رن وے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس سے ان کے استعمال کے مواقع بڑھ جاتے ہیں، خاص طور پر اُن علاقوں میں جہاں ہوائی اڈے دستیاب نہیں ہوتے۔

نقصانات؛

ایسے طیاروں کے لیے طاقتور اور پیچیدہ انجن درکار ہوتے ہیں جو انہیں مہنگا اور ایندھن کے لحاظ سے زیادہ خرچ والا بنا دیتے ہیں کیونکہ عمودی پرواز کے دوران مکمل وزن کو تھرسٹ کے ذریعے اُٹھانا پڑتا ہے۔

Related Posts