ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی مبینہ موت سے متعلق افواہیں ایک بار پھر سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ کئی ماہ سے عوامی منظرنامے سے غائب رہنے کے باعث ان قیاس آرائیوں میں اضافہ ہوا تاہم مختلف ایرانی حکام اور عالمی رہنما اب بھی یہ موقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ وہ زندہ ہیں اگرچہ اطلاعات کے مطابق وہ زخمی حالت میں کسی خفیہ اور محفوظ مقام سے معاملات چلا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ دعوے گردش کر رہے ہیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای امریکی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔ ان افواہوں نے اس وقت مزید زور پکڑا جب وہ 28 فروری 2026 کے حملوں کے بعد سے منظرعام پر نہیں آئے۔ انہی حملوں میں ان کے والد علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ ایرانی شخصیات ہلاک ہو گئی تھیں۔ اسکے باوجود اب تک ان کی موت کے حوالے سے کوئی ٹھوس یا قابلِ تصدیق ثبوت سامنے نہیں آیا۔
BREAKING 🚨
Confirmed by Iran
Sources have just revealed that Iranian leader Mojtaba Khamenei has been killed in a US missile strike. pic.twitter.com/XWmbWJmO8q
— Israel Army (@Netanyahu_News) May 17, 2026
تجزیہ کاروں کے مطابق افواہوں کے پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ ان کی مکمل عوامی غیر موجودگی ہے۔ مارچ 2026 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے نہ تو ان کی کوئی براہِ راست ویڈیو سامنے آئی اور نہ ہی کسی قومی یا مذہبی تقریب سے خطاب نشر کیا گیا۔ مشہد میں لگائے گئے دیوارگیر خاکوں نے بھی سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی جن میں مجتبیٰ خامنہ ای کو وفات پا جانے والی سیاسی شخصیات کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔ لاکھوں افراد نے ان تصاویر کو ان کی موت کی علامتی تصدیق سمجھا، اگرچہ ایرانی حکام نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
یہ تنازع دراصل فروری 2026 میں تہران پر ہونے والے مشترکہ امریکی اور اسرائیلی حملوں سے جڑا ہوا ہے جن میں علی خامنہ ای اور متعدد سینئر ایرانی رہنما مارے گئے تھے۔ سیٹلائٹ تصاویر میں مبینہ طور پر اس کمپاؤنڈ کے اردگرد شدید تباہی دیکھی گئی جسے حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ انٹیلی جنس ذرائع اور علاقائی میڈیا رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای بھی انہی حملوں میں زخمی ہوئے تھے۔ رپورٹس میں جسم جھلسنے، ٹانگوں اور چہرے پر زخموں کا ذکر کیا گیا تاہم ان کی شدت کے بارے میں مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔
ایرانی حکومت مسلسل اس بات کی تردید کر رہی ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای ہلاک یا شدید معذور ہو چکے ہیں۔ تہران کی قیادت سے وابستہ حکام کا کہنا ہے کہ وہ زندہ ہیں اور محفوظ مواصلاتی ذرائع کے ذریعے ریاستی معاملات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ بعض ایرانی میڈیا اداروں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کی فوجی حکام سے خفیہ ملاقاتیں ہوئیں لیکن ایسی کسی ملاقات کی آزادانہ تصدیق شدہ تصاویر جاری نہیں کی گئیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نے بھی حالیہ دنوں میں اس معاملے پر بات کی۔ امریکی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں مجتبیٰ خامنہ ای اب بھی زندہ ہیں لیکن ممکنہ طور پر کسی بنکر یا خفیہ محفوظ مقام پر موجود ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نوجوان خامنہ ای شاید وہ اختیار حاصل نہیں کر سکے جو ان کے والد کو حاصل تھا جس سے ایران کی قیادت میں اندرونی کمزوریوں سے متعلق قیاس آرائیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہوکے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای اپنی اتھارٹی قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر ان کا اثر و رسوخ سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای جیسا مضبوط نہیں۔
اب تک دستیاب شواہد، بین الاقوامی رپورٹس اور ایرانی حکام کے بیانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اگرچہ وہ زخمی ہو سکتے ہیں اور سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر عوامی نظروں سے دور رکھے گئے ہیں۔ ان کی مسلسل غیر موجودگی نے ایران سمیت عالمی سطح پر بے یقینی پیدا کر دی ہے اور جب تک ان کی کوئی تصدیق شدہ ویڈیو یا عوامی پیشی سامنے نہیں آتی، ان کی صحت اور اقتدار سے متعلق قیاس آرائیاں جاری رہنے کا امکان ہے۔
فیکٹ چیک کے مطابق یہ دعویٰ کہ مجتبیٰ خامنہ ای امریکی میزائل حملے میں مارے گئے تاحال قابلِ اعتماد ثبوت سے ثابت نہیں ہو سکا۔ ایرانی حکومت نے ان کی موت کی کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی جبکہ تہران مسلسل یہی کہہ رہا ہے کہ وہ زندہ ہیں اگرچہ زخمی ہونے کی اطلاعات ضرور موجود ہیں۔
متعدد عالمی رپورٹس میں بھی کہا گیا ہے کہ فروری 2026 کے حملوں میں مجتبیٰ خامنہ ای زندہ بچ گئے تھے حالانکہ ان کے والد علی خامنہ ای ان حملوں میں مارے گئے تھے۔ دو ماہ سے زیادہ عرصے تک ان کی عدم موجودگی نے سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں کو جنم دیا مگر اب تک نہ کوئی سرکاری اعلان سامنے آیا نہ جنازے کی تقریب اور نہ ہی کوئی تصدیق شدہ ویڈیو جاری ہوئی۔
رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت ایران کے اندر کسی انتہائی محفوظ اور خفیہ مقام پر موجود ہیں۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر کسی زیرِ زمین بنکر یا فوجی تنصیب میں رہتے ہوئے اپنے زخموں سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔ دو ماہ گزرنے کے باوجود ان کی کوئی عوامی تصویر یا ویڈیو منظرعام پر نہیں آئی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








