ذاتی دشمنی تھی یا غیرت کے نام پر کیا گیا! ٹک ٹاکر رضوانہ عرف حسینہ کو گولیوں سے چھلنی کردیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹؤ؛ فائل)

خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں مشہور ٹک ٹاکر رضوانہ عرف حسینہ کو نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ سانحہ ہری پور میں پیش آیا جہاں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے فائرنگ کی اور بعد میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ فائرنگ کے نتیجے میں رضوانہ عرف حسینہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں۔

واقعے کے بعد پولیس اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں۔ علاقے کو سیل کر دیا گیا اور شواہد جمع کیے جا رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق لاش کو قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

پولیس نے فوری طور پر جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور تحقیقات شروع کر دی ہیں تاہم اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور نہ ہی حملہ آوروں کی شناخت ہو سکی ہے۔

ممکنہ طور پر یہ واقعہ ذاتی دشمنی، غیرت کے نام پر قتل یا سوشل میڈیا سے متعلق تنازعہ کی وجہ سے ہو سکتا ہے تاہم تحقیقات جاری ہیں۔

یہ واقعہ پاکستان میں خاتون سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے خلاف تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان کی ایک اور مثال ہے۔ پچھلے سالوں میں متعدد ٹک ٹاکرز (جیسے صنم یوسف اور دیگر) کو اسی طرح نشانہ بنایا جا چکا ہے، جس سے خواتین کی آن لائن موجودگی اور آزادی اظہار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

گذشتہ چند مہینوں میں پاکستان میں کئی ٹک ٹاکرز کو تشدد کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ مشہور کیس میں 17 سالہ صنم یوسف شامل ہیں جنہیں اسلام آباد میں ان کے گھر کے اندر ایک شخص نے گولی مار کر قتل کر دیا اس واقعے نے ملک بھر میں صنفی تشدد کے خلاف غصہ پیدا کیا۔

ایک اور کیس میں جہلم کی ایک خاتون کو مبینہ طور پر اس کے بھائیوں نے اس کے ٹک ٹاک ویڈیوز کی وجہ سے قتل کر دیا۔ یہ واقعہ نہ صرف ہری پور بلکہ پورے ملک میں سوشل میڈیا پر خواتین کی حفاظت اور آزادی اظہار کے حوالے سے ایک اہم تشویش پیدا کر رہا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین نے واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔

Related Posts