پاکستان کے معروف سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد الیاس 79 سال کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے۔محمد الیاس نے نہ صرف پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا بلکہ بطور چیف سلیکٹر اور کرکٹ ایڈمنسٹریٹر بھی اہم خدمات انجام دیں۔
فیملی ذرائع کے مطابق محمد الیاس جگر کے کینسر میں مبتلا تھے اور چند روز قبل سرجری کے بعد ان کی حالت تشویشناک ہو گئی تھی تاہم آج وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔
محمد الیاس نے اپنے کرکٹ کیریئر میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 10 ٹیسٹ میچز کھیلے جبکہ 82 فرسٹ کلاس میچز میں حصہ لیا۔ وہ پاکستان کرکٹ کے لیے نہ صرف ایک قابل کھلاڑی بلکہ ایک معتبر سلیکٹر اور ایڈمنسٹریٹر بھی تھے۔
کرکٹ میں خدمات اور سلیکشن کمیٹی کا کردار
محمد الیاس پاکستان کرکٹ بورڈ میں چیف سلیکٹر کے عہدے پر فائز رہے جہاں انہوں نے قومی ٹیم کے اسکواڈز کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا ٹیم کے امتزاج کو متوازن کیا اور مینجمنٹ کے ساتھ قریبی کام کیا۔
محمد الیاس نے جونیئر سلیکشن کمیٹی اور ویمن کرکٹ سلیکشن کمیٹی کی قیادت بھی کی جہاں انہوں نے نوجوان کھلاڑیوں کی رہنمائی کی اور خواتین کرکٹ میں ترقی کے ابتدائی اقدامات کیے۔ ان کی کوششوں سے خواتین کرکٹ میں اعتماد اور ڈھانچہ مضبوط ہوا اور مستقبل کے کھلاڑیوں کے لیے راستے ہموار ہوئے۔
محمد الیاس کی شخصیت اور کرکٹ کے لیے خدمات
سابق کھلاڑیوں اور ساتھیوں کے مطابق محمد الیاس ایک منظم، سوچ سمجھ کر کھیلنے والے اور اصولوں کے پابند شخصیت کے حامل تھے۔ وہ تیز انداز یا فلیئر پر زیادہ توجہ نہیں دیتے تھے بلکہ کھیل کے بنیادی اصولوں پر فوکس رکھتے تھے۔ ان کا یہ رویہ بعد میں کرکٹ ایڈمنسٹریشن میں انتہائی مفید ثابت ہوا۔
کرکٹ حلقوں میں ان کی خاموش خدمات کی تعریف کی جاتی رہی اور وہ ہمیشہ پاکستان کرکٹ کے بے لوث خادم کے طور پر جانے جاتے رہے۔
بیماری اور میڈیا رپورٹ
محمد الیاس 79 سال کی عمر میں جگر کے کینسر میں مبتلا ہوئے۔ وہ لاہور میں زیر علاج تھے اور ڈاکٹروں نے چند دن قبل سرجری کی تیاری کی تھی۔ سابق کرکٹرز، افسران اور مداحوں نے ان کے لیے دعا کی اپیل کی تھی۔
انہوں نے اپنی صحت کے حوالے سے مداحوں اور دوستوں سے اپیل کی تھی کہ وہ ان کے لیے دعائیں کریں تاکہ سرجری کامیاب ہو اور وہ صحتیاب ہو سکیں۔
ملک بھر میں کرکٹ کمیونٹی کا ردعمل
محمد الیاس کی خبر پر پاکستان بھر میں کرکٹ کمیونٹی میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی۔ سابق کرکٹرز، حکام اور شائقین نے ان کی خدمات کو سراہا۔ بہت سے لوگوں نے ان کی شخصیت کو منصفانہ، دیانتدار اور کھیل سے محبت کرنے والا قرار دیا۔
ان کی وفات ایک ایسی نسل کے خاتمے کا غم ہے جس نے پاکستان کرکٹ کو شہرت اور نام کے بجائے خدمت اور قربانی کے ذریعے مضبوط کیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








