کراچی کی شہری حکومت نے سائٹ ٹی پی-1 کے مقام پر پاکستان کے پہلے جدید ترین سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ انڈسٹریل واٹر پارک کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ اس منصوبے کو شہر کے صنعتی علاقوں میں پانی کے شدید بحران کے حل کی جانب ایک اہم اور فیصلہ کن قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ منصوبہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی براہِ راست ہدایات کے تحت شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد شہر کے صنعتی شعبے کے لیے پانی کے انتظام کے نظام میں بڑی تبدیلی لانا ہے۔ اس اقدام کو ایک نئے ماڈل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
منصوبے کو اس وقت تیزی سے آگے بڑھایا گیا جب صنعتکاروں نے چیئرمین بلاول بھٹو سے صنعتی علاقوں میں پانی کی شدید کمی کی شکایت کی۔ اس صورتحال کے بعد انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو فوری اور عملی حل تلاش کرنے کی ہدایت دی۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی نگرانی میں سائٹ ٹی پی-1 کے علاقے کو باقاعدہ طور پر انڈسٹریل واٹر پارک قرار دیا گیا اور وہاں ہنگامی بنیادوں پر تعمیراتی کام شروع کر دیا گیا۔ اس سہولت کا مقصد یومیہ 35 ملین گیلن گندے پانی کو صاف کر کے صنعتی استعمال کے قابل پانی میں تبدیل کرنا ہے۔
سرکاری بریفنگ کے دوران کمپنی کے نمائندے شیخ ہمایوں صغیر نے کہا کہ پانی کی ری سائیکلنگ اب کوئی اختیاری عمل نہیں بلکہ وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ انکے مطابق یہ طریقہ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں پہلے ہی کامیابی سے رائج ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ صاف شدہ پانی کو مکمل معیار پر پورا اترنے کے بعد صنعتی یونٹس کو فراہم کیا جائے گا۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں جدید ٹریٹمنٹ پلانٹ آزمائشی بنیادوں پر کام کر رہا ہے جبکہ اس کا باضابطہ افتتاح 30 جون کو کیا جائے گا۔
اس منصوبے میں ماحولیاتی تحفظ کو بھی خاص اہمیت دی گئی ہے۔ پارک کے اندر اب تک 5 ہزار درخت لگائے جا چکے ہیں تاکہ علاقے کے ماحول کو بہتر بنایا جا سکے جبکہ شجرکاری کا عمل مزید جاری ہے۔
حکام کے مطابق اگرچہ ابتدائی انفراسٹرکچر مکمل ہوچکا ہے تاہم مستقبل میں اس کی گنجائش مزید بڑھائی جائے گی تاکہ کراچی کے صنعتی شعبے کی بڑھتی ہوئی پانی کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کیا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








