کراچی میں شدید گرمی کی لہر سے متاثر شہریوں کے لیے بالآخر ایک خوش آئند خبر سامنے آئی ہے کیونکہ دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی خرابی کے باعث متاثر ہونے والی تین بڑی پانی کی سپلائی لائنز کی مرمت مکمل کرلی گئی ہے اور شہر کے کئی گنجان آباد علاقوں میں پانی کی فراہمی دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کراچی سمیت جنوبی پاکستان کا بڑا حصہ شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر جا رہا ہے اور محکمہ موسمیات نے مزید گرم اور مرطوب موسم کی پیش گوئی بھی کر رکھی ہے۔ اس صورتحال میں شہریوں کے لیے پانی کی دستیابی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی تھی۔
واٹر کارپوریشن کے ترجمان کے مطابق 27 اپریل کو ہونے والی بجلی کی خرابی کے دوران وہ تین اہم پائپ لائنیں متاثر ہو گئی تھیں جو دریائے سندھ سے کراچی کو پانی فراہم کرتی ہیں۔ اس خرابی کے باعث شہر کو تقریباً ایک ہفتے تک پانی کی بڑی سپلائی میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔
ترجمان نے بتایا کہ اب کورنگی، ملیر، چنیسر ٹاؤن، صدر، کلفٹن اور ڈی ایچ اے سمیت مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی بحال کر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو شدید گرمی میں جو مشکلات پیش آئیں ان کے پیش نظر ٹیموں نے دن رات کام کر کے مرمت مکمل کی۔
اگرچہ سپلائی بحال ہو گئی ہے،تاہم شہر کو اب بھی روزانہ تقریباً 40 ملین گیلن پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ ترجمان کے مطابق فوری بحران پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے لیکن مکمل بہتری ابھی باقی ہے۔
دھابیجی پمپنگ اسٹیشن جو کراچی سے تقریباً 60 کلومیٹر دور واقع ہے، شہر کو پانی فراہم کرنے کا مرکزی ذریعہ ہے۔ 27 اپریل کے بریک ڈاؤن کے باعث شہر کو پانی کی ترسیل متاثر ہوئی جس سے مختلف علاقوں میں شدید قلت پیدا ہو گئی خاص طور پر اس وقت جب گرمی کی شدت بڑھ رہی تھی۔ اس دوران شہریوں کو مہنگے ٹینکرز پر انحصار کرنا پڑا۔
واٹر کارپوریشن نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ لائنوں اور بجلی کے نظام کو پہنچنے والے نقصان کے باعث مرمت میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ اس دوران ٹینکر سروس بڑھا دی گئی تھی تاہم طلب بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے فراہمی ناکافی رہی۔
واضح رہے کہ کراچی جس کی آبادی دو کروڑ سے زیادہ ہے، اپنی پانی کی ضروریات کے لیے دھابیجی اور نیک (NEK) پمپنگ اسٹیشنز پر انحصار کرتا ہے۔ شہر کی مجموعی ضرورت 1200 ملین گیلن یومیہ سے زائد ہے جبکہ سپلائی تقریباً 650 ملین گیلن تک محدود رہتی ہے جو شدید گرمی میں بحران کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
ترجمان کے مطابق نظام میں بہتری آ رہی ہے اور پانی کے دباؤ کو بھی آہستہ آہستہ نارمل کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں مزید بہتری متوقع ہے جس سے گھروں، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو ریلیف ملے گا۔
متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں نے بتایا کہ جمعہ کی رات دیر گئے کئی گھروں میں پانی پہنچنا شروع ہوا جسے انہوں نے طویل مشکلات کے بعد بڑی راحت قرار دیا۔ واٹر کارپوریشن نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ مکمل نظام بحال ہونے تک پانی احتیاط سے استعمال کیا جائے۔
دھابیجی کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کی جانب سے 27 اپریل کے بریک ڈاؤن کی وجوہات پر تاحال کوئی علیحدہ بیان سامنے نہیں آیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








