ہم مزید افغان مہاجرین لینے کے متحمل نہیں ہوسکتے،دفتر خارجہ

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان نے بیرون ملک مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن کی رپورٹ کو مسترد کردیا
پاکستان نے بیرون ملک مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن کی رپورٹ کو مسترد کردیا

اسلام آبا د:ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے کہ گزشتہ روز چین اور پاکستانی ورکرز کو لے جانے والی بس حادثے کے واقعہ پر تحقیقات ہورہی ہیں، حادثے کو دہشت گردی کے زاویے سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔

زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے کہ کوئی پہلو نظرانداز نہیں کرسکتے، چینی حکام سے رابطے میں ہیں،افغان امن کانفرنس 18-19جولائی کو اسلام آباد میں ہوگی، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم مزید افغان مہاجرین لینے کے متحمل نہیں ہوسکتے،افغان مسئلے کے حل سے افغان مہاجرین کی واپسی کی راہ ہموار ہونی چاہیے،بھارت دہشت گردی کو ریاستی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت لاہور حملے کے منصوبہ بندی کرنے والوں کو گرفتار کرے، پاکستان یو این قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کی حمایت جاری رکھے گا۔

جمعرات کو یہاں ترجمان دفترخارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان ازبکستان تعلقات تاریخی اور گہرے ہیں، وزیرخارجہ نے ایس سی او افغان گروپ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔

ایس سی او کی سائیڈ لائنز پر وزیر خارجہ نے تاجکستان، چین روس قزاقستان اور ازبکستان کے ہم منصبوں سے بھی ملاقات کی،وزیر خارجہ نے کوویڈ 19 کے مشترکہ مقابلے پر زور دیا۔

ترجمان دفترخارجہ نے کہاکہ وزیر خارجہ سے امریکی وزیر خارجہ نے ٹیلیفونک رابطہ کیا،بات چیت میں افغانستان اور علاقائی منسلکی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کو افغانستان میں تیزی سے تبدیل ہوتی سیکیورٹی صورتحال پر تشویش ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیرخارجہ نے افغان مسئلے کے حل پر مشترکا ذمہ داری پر زور دیا، ہم افغان مسئلے کے سیاسی حل پر زور دیتے ہیں۔

افغان عوام نے خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے، افغان مسئلے کے حل سے افغان مہاجرین کی واپسی کی راہ ہموار ہونی چاہیے۔ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ بھارت لاہور حملے کے منصوبہ بندی کرنے والوں کو گرفتار کرے۔

مقبوضہ کشمیرمیں حال ہی میں ایک عمر رسیدہ خاتون کو فوجی گاڑی کے نیچے کچل دیا گیا، پاکستان یو این قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کی حمایت جاری رکھے گا۔ترجمان نے کہا کہ افغانستان کے مسئلے کا حل افغانوں نے خود تلاش کرنا ہے۔

پاکستان نے بھارت کی دہشت گردوں کی مالی معاونت کا معاملہ اٹھایا ہے، پاکستان نے ماضی میں بھی اس حوالے سے ناقابل تردید شواہد پیش کیے، بھارت دہشت گردی کو ریاستی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے۔

مزید پڑھیں: پاک ازبکستان تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔وزیراعظم

ترجمان نے کہاکہ پاکستان افغان امن کانفرنس کا انعقاد کررہا ہے، ہم نے کئی افغان قائدین کو دعوت نامے بھجوائے، افغان امن کانفرنس 18-19جولائی کو اسلام آباد میں ہوگی، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

Related Posts