اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آرمی چیف کے تقرر پر وزیراعظم میاں شہباز شریف کی سمری صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے پاس چلی گئی، امید ہے کہ وہ کوئی نیا تنازع کھڑا نہیں کرینگے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں وزیر دفاع نے کہا کہ آرمی چیف کے تقرر کے لیے وزیراعظم کی ایڈوائس صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے پاس چلی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب عمران خان کا امتحان ہے کہ وہ دفاع وطن کے ادارے کو مضبوط بنانا چاہتا ہے یا متنازع۔
ایڈوائس صدر علوی کے پاس چلی گئی ھے.اب عمران خان کا امتحان ھے وہ دفاع وطن کے ادارے کو مضبوط بنانا چاہتا ھے یا متنازعہ. صدر علوی کی بھی آزمائش ھے کے وہ سیاسی ایڈوائس پہ عمل کرینگےیاآئینی وقانونی ایڈوائس پہ. بحیثیت افواج کےسپریم کمانڈرادارے کو سیاسی تنازعات سےمحفوظ رکھنا انکا فرض ھے
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) November 24, 2022
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ صدر مملکت علوی کی بھی آزمائش ہے کہ وہ سیاسی ایڈوائس پر عمل کریں گے یا آئینی وقانونی ایڈوائس پر۔ بحیثیت افواج کےسپریم کمانڈر ادارے کو سیاسی تنازعات سے محفوظ رکھنا ان کا فرض ہے۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اور چیف آف دی آرمی اسٹاف مقرر کرنے کے لیے وزیراعظم کی سمری صدر مملکت کو روانہ کردی گئی ہے، تاہم میں مزید کوئی تفصیل بتانے کا مجاز نہیں، اس سے متعلق تفصیلی سمری وزیراعظم آفس سے جاری کردی جائے گی۔
لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو نیا آرمی چیف مقرر کرنیکا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ قانون اور آئین کے مطابق تمام معاملات طے پائے ہیں۔ ہمیں پوری امید ہے کہ صدر مملکت کوئی تنازع نہیں کھڑا کریں گے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ان معاملات کو سیاسی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ آرمی چیف کے تقرر سے متعلق وزیراعظم کی سمری خالصتاً قانونی اور آئینی نظر سے دیکھنا ان کا حق ہے، صدر مملکت یہ فیصلہ سیاسی ایڈوائس کے تحت نہ کریں۔
قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے ٹوئٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اور لیفٹنٹ جنرل سید عاصم منیر کو چیف آف دی آرمی اسٹاف مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے سمری صدر پاکستان کو ارسال کر دی گئی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








