امریکی فوج کے وینزویلا پر حملے اور صدر نکولس مادورو کی اہلیہ سمیت گرفتاری کے بعد امریکی طیارہ دونوں گرفتار افرادک و لے کر نیو یارک پہنچ گیا، جبکہ نکولس مادورو کے 2 مبینہ جرائم سامنے آگئے ، جن کی بنیاد پر امریکی صدر نے وینزویلا پر حملے کا حکم دیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق وینزویلا کے گرفتار صدر کو امریکی بوئنگ 757 طیارے کے ذریعے نیویارک منتقل کیا گیا ہے۔اس سفر کے دوران یہ سب سے زیادہ ٹریک کی جانے والی پرواز تھی۔امریکی عدالت نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر فردِ جرم بھی عائد کررکھی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘فاکس اینڈ فرینڈز’ سے گفتگو میں بتایا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو ایک ایسے مکان سے گرفتار کیا گیا جو قلعے کی طرح محفوظ تھا۔ امریکی فوج کے پاس اسٹیل کے دروازے کاٹنے کے لیے بڑے بلاسٹ ٹورچ موجود تھے، لیکن مادورو اس علاقے میں داخل نہ ہوسکے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ وینزیلا کے صدر کے خلاف آپریشن میں کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا اور معمولی زخمی ہوئے، جبکہ انہوں نے یہ کارروائی براہِ راست دیکھی۔ امریکا کا پہلا حملہ کامیاب رہا، وینزویلا پر دوسرے حملے کی ضرورت نہیں۔
صدر وینزویلا کے 2 جرائم
نکولس مادورو نے 2024 کے صدارتی انتخابات میں فتح حاصل کی تھی، تاہم اپوزیشن نے مختلف بیانات سے واضح کیا کہ اپوزیشن امیدوار ایڈمنڈو گونزالیز واضح اکثریت سے جیت حاصل کرچکے تھے، اور یہی وجہ ہے کہ صدر نکولس مادورو کیلئے امریکا کی جانب سے ڈکٹیٹر کے الفاظ استعمال کیے گئے۔
وینزویلا کے صدر کا دوسرا بڑا جرم امریکا کے ساتھ کشیدہ تعلقات رہا، امریکا نے صدر نکولس مادورو پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں جن میں منشیات اسمگلنگ کی سرپرستی اور نڈرل گروہوں بشمول ڈی ارواگا اور کارٹیل دے لوس سولیس جو کہ امریکا کی نظر میں دہشت گرد تنظیمیں ہیں، ان میں سے ایک (کارٹیل دے لوس سولیس) کی قیادت بھی شامل ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








