وسطی ایشیا کے خوبصورت اسلامی ملک کرغزستان کے متعلق آپ کیا جانتے ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو کرغیز میڈیا

ان دنوں کرغزستان کے دار الحکومت بشکیک میں غیر ملکی بالخصوص پاکستانی طلبہ پر مقامی کرغیز باشندوں کی جانب سے تشدد کے سنگین واقعات کے باعث ہر طرف کرغزستان موضوع بحث ہے تاہم وسطی ایشیا کے چھوٹے مگر خوبصورت مسلم ملک کے بارے میں لوگوں کو زیادہ معلومات نہیں ہیں۔

  آئیے ہم آپ کو  وسطی ایشیا کے اس خوبصورت ملک کے بارے میں چند دلچسپ تفصیلات سے آگاہ کرتے ہیں۔

 کرغزستان کہاں واقع ہے؟
برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی رپورٹ کے مطابق تیان شان اور پامیر پہاڑی سلسلے میں گھرا کرغزستان ایک لینڈ لاکڈ یعنی زمین سے گھرا ہوا ملک ہے جس کے شمال میں قازقستان، جنوب میں تاجکستان، مشرق میں چین اور مغرب میں ازبکستان واقع ہے۔

یہ ملک سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سنہ 1991 میں ایک خودمختار ریاست بنا تھا۔ شاہراہِ ریشم پر واقع اس دلکش ملک جو وسطی ایشیا کے بیچوں بیچ واقع ہے میں کرغز آبادی سب سے زیادہ ہے جس کے بعد یہاں ازبک اور روسی نسل کے افراد آتے ہیں۔

کرغز کے معنی کیا ہیں؟

دارالحکومت بشکیک ملک کا سب سے بڑا شہر ہے اور یہ ملک کے شمال میں واقع ہے۔ کرغزستان کی ایک سرکاری سیاحتی ویب سائٹ کے مطابق کرغز ترکش لفظ کرک سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں 40 یا ’ہم چالیس ہیں‘۔ اسے خطے میں آنے والے ایک جنگجو ماناس کی جانب سے 40 کرغز قبیلوں کو متحد کرنے کے قصے سے جوڑا جاتا ہے۔ 40 کرغز قبیلوں اور داستانِ ماناس کی اہمیت اتنی ہے کہ انھیں ملک کے جھنڈے پر بنے سورج کی 40 کرنوں یا شعاؤں سے بھی منسوب کیا جاتا ہے۔

مذاہب کی بات کی جائے تو کرغزستان میں 80 فیصد آبادی مسلمان ہے، 17 فیصد روسی آرتھوڈوکس جبکہ تین فیصد دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہیں۔

نظام حکومت اور آبادی

کرغزستان میں پارلیمانی نظام حکومت ہے جہاں وزیرِ اعظم پارلیمان کا سربراہ اور صدر ریاست کا سربراہ ہوتا ہے۔ ملک میں دو بڑے شہر بشکیک اور اوش جبکہ سات ریجن شامل ہیں۔ یہاں کی سرکاری کرنسی کرغز سوم ہے۔ ایک کرغز سوم تین پاکستانی روپے کے برابر ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کرغزستان کی کُل آبادی لگ بھگ 70 لاکھ ہے جس میں سے 15 لاکھ افراد روزگار کے لیے بیرونِ ملک مقیم ہیں جو کُل آبادی کا 21 فیصد ہے۔

آئی ایف آر سی نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق کرغزستان وسطی ایشیا میں تاجکستان کے بعد دوسرا سب سے زیادہ غریب ملک ہے جہاں کی ایک چوتھائی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے۔

Related Posts