عام طور کسی بھی مقام پر آتشزدگی کا حادثہ پیش آئے تو میڈیا پر آگ کی تفصیلات میں بتایا جاتا ہے کہ یہ تیسرے درجے کی آگ تھی۔ یہ کیسے معلوم ہوتا ہے کہ آگ اس درجے کی ہے، آئیے جانتے ہیں۔
آتشزدگی کے واقعات کے دوران آگ کی درجہ بندی کیسے کی جاتی ہے؟ اس سوال کے جواب میں ماہرین کہتے ہیں کہ آگ کی باقاعدہ درجہ بندی نہیں ہوتی کہ یہ اول درجے، یہ درجہ دوم اور یہ تیسرے درجے کی آگ ہے۔
خیرپورمیڈکل کالج کی طالبہ سنیہا جیوتی کی پراسرارموت کیسے ہوئی؟
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق آگ یا تو اندرونی ہوتی ہے یا بیرونی۔ اندرونی آگ وہ آگ ہوتی ہے جو کسی عمارت کے اندر لگے۔ اس کے علاوہ کسی کھلی جگہ، پارک، میدان یا کسی شاہراہ پر لگنے والی آگ کو بیرونی آگ کہا جاتا ہے اور بیرونی آگ پر قابو پانا آسان ہوتا ہے، کیونکہ اس آگ کو آسانی سے بجھایا جاسکتا ہے۔
اس کے بر عکس اندورنی یعنی کسی بڑی عمارت خاص طور پر رہائشی عمارت میں لگی اندورنی آگ پر قابو پانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ اندرونی آگ کی صورت میں کوشش کی جاتی ہے کہ وہاں رہنے والے لوگوں کو بحفاظت باہر نکالا جائے، نیز یہ خیال بھی رکھا جاتا ہے کہ آگ آس پاس کی عمارتوں تک پھیلے اور آگ کی شدت سے عمارت گر نہ جائے، اس لیے اندورنی آگ خطرناک ہوتی ہے۔
آتشزدگی کی خطرناک قسم
ماہرین کے مطابق آتشزدگی کی ایک اور خطرناک قسم قدرتی آگ ہے۔ اس قسم میں کسی جنگل میں موجود گھاس پھوس میں گرمیوں کے موسم میں آگ لگ جاتی ہے۔ یہ آگ بہت تیزی سے پھیلتی ہے، اسی لیے اردو محاورہ “جنگل میں آگ” مشہور ہے۔ اس پر قابو پانا بھی بہت زیادہ مشکل ہوتا ہے۔
آگ کی درجہ بندی کیسے ہوتی ہے؟
ماہرین کہتے ہیں کہ آگ کی کوئی باقاعدہ درجہ بندی نہیں ہوتی۔ ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی آگ پہلے درجے اور کوئی دوسرے درجے کی بھی ہو۔ ہاں البتہ جب آگ انتہائی خطرناک ہوجائے تو صرف اس کے لیے کہا جاتا ہے کہ یہ تیسرے درجے کی آگ ہے اور اس کا مقصد صرف آتشزدگی کے اس واقعے کی سنگینی کو بتانا ہوتا ہے۔
تیسرے درجے کی آگ پر قابو پانا مشکل ہوتا ہے۔ اس قسم کی آگ کو بجھانے میں کبھی 24 گھنٹے تو کبھی کبھی کئی دن لگ سکتے ہیں۔ یوں سمجھیں کہ جب سارے شہر کی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اس آگ کو بجھانے کیلئے طلب کی جائیں اس کو تسیرے درجے کی آگ کہا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








