بالی ووڈ کے معروف اداکار عامر خان اور ان کے بھائی فیصل خان کے درمیان کشیدہ تعلقات کی خبریں پہلے بھی گردش میں رہی ہیں، مگر حال ہی میں فیصل خان کے ایک انکشاف نے مداحوں کو حیران کردیا ہے۔
فیصل خان کا کہنا ہے کہ چند سال قبل عامر خان نے انہیں ممبئی میں اپنے گھر پر ایک سال سے زیادہ عرصے تک قید رکھا۔ اس دوران ان کا موبائل فون چھین لیا گیا، انہیں زبردستی دوائیں دی جاتی رہیں اور کمرے کے باہر پہرہ دینے کے لیے گارڈز موجود تھے تاکہ وہ باہر نہ نکل سکیں۔
بھارتی میڈیا سے گفتگو میں فیصل نے بتایا کہ اس وقت ان کی فیملی نے ان پر شیزوفرینیا کا الزام لگایا اور انہیں ”پاگل شخص“ قرار دے کر معاشرے کے لیے خطرہ بتایا۔
فیصل کے مطابق یہ حالات ان کے لیے ایک جال کی مانند تھے جس سے نکلنا ناممکن محسوس ہوتا تھا، کیونکہ پوری فیملی ان کے خلاف ہو چکی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ان دنوں میں انہوں نے بہت دعائیں کیں اور امید رکھی کہ ان کے والد طاہر حسین ان کی مدد کو آئیں گے، لیکن رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ فیصل نے بتایا، ”میرے پاس ابو کا نمبر تک نہیں تھا۔ عامر نے مجھے گھر میں بند کر رکھا تھا۔ موبائل لے لیا گیا تھا، باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی، کمرے کے باہر باڈی گارڈ کھڑے رہتے اور دوائیں دی جاتی تھیں۔“
تقریباً ایک سال بعد فیصل کے مسلسل اصرار پر عامر نے انہیں دوسرے گھر میں منتقل ہونے کی اجازت دی۔
یاد رہے کہ عامر خان اور فیصل 2000 میں ریلیز ہونے والی فلم ’’میلہ‘‘ میں ایک ساتھ نظر آئے تھے، جس میں اداکارہ ٹوئنکل کھنہ بھی شامل تھیں اور جس کی ہدایت کاری دھرمیش درشن نے کی تھی۔
اب اس معاملے پرعامر خان کے خاندان کا بیان سامنے آیا ہے جن میں رینا دتہ، جنید خان، ایرا خان، فرحت دتہ، راجیو دتہ، کرن راؤ، سنتوش ہیگڑے، سحر ہیگڑے، منصور خان، نزہت خان، عمران خان، ٹینا فونسیکا، زین ماریہ خان اور پابلو خان شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم فیصل کی جانب سے اپنی والدہ زینت طاہر حسین، اپنی بہن نکہت ہیگڑے اور اپنے بھائی عامر کے بارے میں دی گئی گمراہ کن اور تکلیف دہ تصویر کشی سے بہت دل گرفتہ ہیں۔ چونکہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب فیصل نے ان واقعات کو غلط انداز میں پیش کیا ہے، اس لیے ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ اپنی نیت کو واضح کریں اور اپنے خاندانی اتحاد کا اعادہ کریں‘۔
انہوں نے کہا کہ فیصل سے متعلق ہر فیصلہ اجتماعی طور پر خاندان نے متعدد ماہرینِ نفسیات و ڈاکٹروں سے مشاورت کے بعد کیا جو صرف محبت، ہمدردی اور ان کی جذباتی و ذہنی بھلائی کے خیال پر مبنی تھا۔ انہی وجوہات کی بنا پر ہم نے اس تکلیف دہ اور مشکل وقت کی تفصیلات کو عوامی سطح پر بیان کرنے سے گریز کیا۔
عامر خان کے خاندان نے مزید کہا کہ ہم میڈیا سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ ہمدردی کا مظاہرہ کرے اور اس نجی معاملے کو سنسنی خیز، اشتعال انگیز اور تکلیف دہ گپ شپ میں نہ بدلے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








