اسمبلیاں تحلیل ہونے میں 2 دن باقی ہیں پھر 90 دن میں الیکشن کروانے ہوں گے، ویسے تو اسمبلیوں کی مدت 12 اگست کو پوری ہونی تھی اور ایسی صورت میں الیکشن 60 دن کے اندر ہونے تھے لیکن وقت سے پہلے اسمبلیوں کی تحلیل ہورہی ہے تو اب 90 دن میں الیکشن منعقد کرائے جائیں گے۔لیکن کیا واقعی 90 دن میں الیکشن کرائے جائیں گے؟؟؟
یہ وہ سوال ہے جو ہر کسی کے ذہن میں آرہا ہے، لیکن جواب اب تک کس کے پاس نہیں ہے کہ یہ کیا سیاسی کھچڑی پک رہی ہے۔ ایک سیاسی جماعت کہتی ہے کہ الیکشن وقت پر ہونے چاہئیں، دوسری جماعت کا موقف الگ ہوتا ہے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل مردم شماری کے نام پر دھوکا دیا جارہا ہے، کراچی پر ایک بار پھر شب خون مارا گیا، سب نے مل کر کراچی کی پیٹھ میں چھرا گھونپا، دکھاوے کے لئے مردم شماری میں توسیع کی گئی تھی، اعداد وشمار پہلے ہی طے ہوچکے تھے، کراچی کی آبادی کو 1 کروڑ 45 لاکھ کم گنا گیااگر ہمیں درست گنا جائے تو صوبائی نشستیں 44 کے مقابلے میں 65 ہو جائیں گی۔
حافظ نعیم نے کہا کہ کراچی کو صحیح معنوں میں گن لیا جائے تو سندھ اسمبلی سے وڈیرہ شاہی نکل جائے گی، محکمہ شماریات کا ایک ہی کام ہے کہ گنتی صحیح کرے وہ بھی ٹھیک نہیں کررہا، الیکشن کمیشن کا کام صرف الیکشن کرانا ہے وہ بھی ٹھیک نہیں کرواتا۔
انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کہہ رہی ہے کہ بہت بڑی کامیابی حاصل کی ہے، ایک کروڑ 45 لاکھ افراد کو کم گنا گیا اور ایم کیو ایم کہتی ہے بڑی کامیابی حاصل ہوئی، ایم کیو ایم نے کیا کمال کیا جس پر خوشیاں منا کرعوام کو دھوکا دے رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








