وفاقی ادارۂ شماریات کے سرکاری اعداد و شمار کی بنیاد پر فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے جنوبی ایشیا میں شرحِ خواندگی سے متعلق ایک تجزیاتی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں پاکستان کی تعلیمی صورتحال کو خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تقابلی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں مجموعی شرحِ خواندگی 63 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، جو جنوبی ایشیا کے تمام ممالک میں سب سے کم ہے۔ فافن کے مطابق 19-2018 کے بعد اس شرح میں صرف 3 فیصد اضافہ ہوا، جسے تعلیمی شعبے میں نہایت سست رفتاری سے ہونے والی پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تعلیمی حوالے سے صنفی فرق بھی نمایاں ہے۔ مردوں میں شرحِ خواندگی 73 فیصد ہے، جبکہ خواتین کی خواندگی کی شرح 54 فیصد تک محدود ہے۔ صوبائی سطح پر جائزہ لیا جائے تو پنجاب 68 فیصد کے ساتھ نسبتاً بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتا نظر آتا ہے، جبکہ بلوچستان میں شرحِ خواندگی صرف 49 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو سب سے کم ہے۔
فافن کی رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں مالدیپ 98 فیصد شرحِ خواندگی کے ساتھ سرفہرست ہے، سری لنکا میں یہ شرح 93 فیصد، بھارت میں 87 فیصد اور بنگلا دیش میں 79 فیصد ہے۔ خطے کی اوسط شرحِ خواندگی 78 فیصد بتائی گئی ہے، جس کے مقابلے میں پاکستان نمایاں طور پر پیچھے نظر آتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں نوجوانوں کی شرحِ خواندگی 77 فیصد ہے، جبکہ بالغ آبادی میں یہ تناسب کم ہو کر 60 فیصد رہ جاتا ہے۔ فافن نے یاد دہانی کرائی ہے کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 25-اے کے تحت تعلیم کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، جبکہ حکومت اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کے تحت معیاری تعلیم کی فراہمی کی بھی پابند ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








