امریکی خارجہ پالیسی نے 2026 کے آغاز پر ایک بار پھر ایسی کروٹ لی ہے جو دنیا کو ماضی کے تلخ تجربات کی یاد دلا رہی ہے۔ بظاہر اس پالیسی کا محور قومی سلامتی، امریکی مفادات کا تحفظ اور عالمی استحکام ہے، مگر عملی طور پر یہ پالیسی دنیا کو مزید انتشار، عدم اعتماد اور علاقائی کشیدگی کی طرف دھکیلتی دکھائی دیتی ہے۔
جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ اس پالیسی سے سب سے زیادہ متأثر ہوئے ، جہاں طاقت کے استعمال نے امن کے امکانات کو کمزور اور تنازعات کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ امریکی خارجہ پالیسی کی بنیاد ایک دیرینہ طریقہ کار پر استوار رہی ہے جو امریکا کی بالادستی پر مبنی ہے اور سیاسی، عسکری، معاشی اور نظریاتی سطح پر خود کو برتر اور دوسروں کو کمتر سمجھنے کا یہ تصور امریکی پالیسی کا مستقل جزو بن گیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی گلوبلزم کے نام پر امریکی اقدار اور اصولوں کو پوری دنیا پر تھوپنے کا عزم، اور اپنی مروّجہ لبرل جمہوریت کو ایک عالمگیر نسخۂ نجات کے طور پر پیش کرنے کی کوشش، امریکی بیانیے کو اخلاقی برتری کا لبادہ فراہم کرتی رہی ہے۔ لیکن اس بیانیے کے پسِ پشت درحقیقت عسکری طاقت ہی رکھی گئی ، جسے امریکی مفادات اور نظریات کے دفاع کا سب سے مؤثر ذریعہ سمجھا گیا۔
تاہم اسی سوچ کے اندر اس کی سب سے بڑی کمزوری بھی پوشیدہ ہے۔ امریکی پالیسیوں پر سب سے نمایاں تنقید یہ کی جاتی ہے کہ امریکا اتحادیوں، شراکت داروں اور عالمی اداروں کو اعتماد میں لیے بغیر اہم ترین فیصلے تن تنہا کرلیتا ہے ۔عالمی سطح پر آمریت پر مبنی حکومتوں کی عملی حمایت نے امریکہ کے جمہوری دعوؤں کو کھوکھلا کر دیا، جس کی حال ہی میں اپنے ہی نیٹو کے رکن ملک گرین لینڈ پر قابض ہونے کی دھمکی سے دی جاسکتی ہے ۔ سفارت کاری کے بجائے عسکری حل پر حد سے زیادہ انحصار امریکہ کو ایک عالمی ثالث کے بجائے ڈنڈے کے زور پر اپنے من مانے فیصلے مسلط کرنے والی طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے۔
افغانستان، عراق ، لیبیا، لبنان ، فلسطین اور شام میں امریکی خارجہ پالیسی اس بات کی زندہ مثال ہے۔ ان طویل جنگوں نے نہ صرف امریکی حکمتِ عملی کی وسعت اور اثر و نفوذ پر سوالات اٹھائے بلکہ جنگوں کے واضح اہداف کے فقدان سے امریکی کردار بے سمت اور غیریقینی ہو کر رہ گیا۔ مختلف خطوں میں برسوں پر محیط عسکری موجودگی نے مقامی آبادیوں کو شدید انسانی نقصانات سے دوچار کیا اور جنگوں کے نتیجے میں لاکھوں شہریوں کی ہلاکتیں، بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد اور تباہ شدہ ریاستی ڈھانچوں سے نہ صرف علاقائی عدم استحکام میں اضافہ ہوا بلکہ زیر زمین تحریکوں کو بھی دوام ملا ،شدت پسند عناصر کو پنپنے کا موقع ملا، اور عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ بھی بتدریج خراب ہوتی گئی۔ اگر صرف افغانستان جنگ کی بات کریں تو وکی پیڈیا کے مطابق اس جنگ کے باعث 1 لاکھ 76 ہزار افراد ہلاک ہوئے جن میں 46 ہزار سے زائد شہری اور 69 ہزار سے زائد پولیس اور فورسز کے اہلکار شامل تھے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاک بھارت کشیدگی سمیت 8 جنگیں ختم کرنے کے دعوے کیے گئے، مگر عملی اقدامات علاقائی توازن کو بہتر بنانے کے بجائے چین جیسے اہم فریقوں کے ساتھ تناؤ بڑھانے کا باعث بنے۔ بھارت کے ساتھ دفاعی تعاون اور تجارتی روابط کی موجودگی کے باوجود ٹیرف اور دباؤ کی سیاست نے نئی خلیجیں پیدا کیں، جس کا اثر خود مودی حکومت کی ناراضی کی صورت میں سامنے آیا۔
مشرقِ وسطیٰ میں بھی امریکی حکمتِ عملی تضادات کا شکار ہے۔ غزہ کا بحران تاحال حل طلب ہے، اور امریکی سفارت کاری ظاہراً ایک نازک معاہدے کی راہ ہموار کرتی نظر آرہی ہے مگر یہ عمل مزید علاقائی اثرات اور مفادات کو جنم دے رہا ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف عسکری اور اقتصادی دباؤ نے کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔ ایران پر چڑھائی کی دھمکیاں نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے اور اگر آبنائے ہرمز بند ہوتی ہے جہاں سے دنیا کی تیل تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ گزرتا ہے، تو تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں، اور ایشیا سمیت پوری دنیا معاشی بحران کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔
عالمی سطح پر امریکہ نے یورپ کو اپنی دفاعی ذمہ داریاں خود اٹھانے کا مشورہ دے کر نیٹو میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔ امریکا اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی اہمیت کو کم کرنے میں بھرپور کردار ادا کررہا ہے جس کے نتیجے میں چھوٹے ممالک خود کو مزید غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں اور عالمی قانونی فریم ورک کمزور سے کمزور تر ہوتا جارہا ہے۔ چین کے ساتھ معاشی تعاون اور مقابلے کی دوہری پالیسی بھی دنیا کو استحکام کے بجائے تقسیم کی طرف لے جا رہی ہے۔
امریکی حکمتِ عملی میں اب سفارت کاری اور علاقائی شراکت داریوں پر زور دینے کی بات کی جا رہی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ سافٹ سے ہارڈ یعنی گن بوٹ ڈپلومیسی کی جانب اس منتقلی کے بعد دنیا بتدریج امریکہ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ افغانستان و عراق اور دیگر ممالک میں ناکامیوں نے نہ صرف عالمی سطح پر امریکہ کے خلاف تنقید کو بڑھایا بلکہ خود امریکی شہریوں کے لیے بھی بیرونِ ملک مشکلات میں اضافہ ہوا۔
اگر عسکری قوت، آمریت پر مبنی حکومتوں کی حمایت اور تنہا فیصلوں کا یہ سلسلہ جاری رہا تو عالمی امن اور اقتصادی ترقی کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہےبلکہ آئندہ کچھ ہی مہینوں میں امریکا کے مزید ممالک سے باہمی معاشی و تجارتی تعلقات مزید کھٹائی میں پڑ سکتے ہیں۔ افغانستان، عراق اور شام کے تجربات واضح اشارہ دیتے ہیں کہ صرف بندوق کے زور پر دنیا کو نہیں چلایا جا سکتا۔ حقیقی استحکام کے لیے ملٹی لیٹرلزم، مؤثر سفارت کاری اور اصولی شراکت داری ناگزیر ہے، ورنہ امریکی بالادستی کا یہ دعویٰ خود امریکہ کے لیے سب سے بڑا بوجھ بن سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








