خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں آنکھوں کی بیماری “کنجیکٹیوائٹس” (عموماً “پِنک آئی” یا سرخ آنکھ کہلاتی ہے) تیزی سے پھیل رہی ہے، سب سے زیادہ متاثرہ علاقے وہ ہیں جہاں حالیہ سیلاب آیا تھا۔
صوبائی محکمۂ صحت کے مطابق صرف اگست میں 22 ہزار 863 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔
پِنک آئی کیا ہے؟
پِنک آئی آنکھ کی باریک شفاف جھلی (کنجیکٹیوا) کی سوجن یا سوزش ہے، جو پلک کے اندرونی حصے کو اور آنکھ کے سفید حصے کو ڈھانپتی ہے۔ یہ زیادہ تر وائرس یا بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتا ہے، تاہم بعض اوقات الرجی یا دیگر جلن پیدا کرنے والے عوامل (جیسے دھواں یا گرد) بھی اس کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہ ایک یا دونوں آنکھوں کو متاثر کرسکتا ہے۔
یہ مرض دو صورتوں میں ہوتا ہے:
-
شدید (Acute): جو چار ہفتوں سے کم رہتا ہے۔
-
مزمن (Chronic): جو چار ہفتوں سے زیادہ برقرار رہے۔
اگر یہ کسی انفیکشن کی وجہ سے ہو تو یہ نہایت تیزی سے پھیلتا ہے، اور ایک شخص سے دوسرے تک یا ایک آنکھ سے دوسری آنکھ تک منتقل ہوسکتا ہے۔
عام علامات
اس مرض میں مبتلا افراد کو درج ذیل علامات محسوس ہوسکتی ہیں:
-
ایک یا دونوں آنکھیں سرخ ہوجانا
-
گاڑھا مادہ (پیلا، سبز یا سفید رنگ کا)
-
پلکوں یا پپوٹوں پر جم جانے والی تہہ
-
آنکھ میں ریت یا ذرّات جیسا احساس
-
خشکی، پانی آنا یا خارش
-
جلنے جیسی کیفیت
-
دھندلا دکھائی دینا (کبھی کبھار)
-
روشنی سے حساسیت
-
پلکوں کا سوج جانا
-
ہلکا درد
علاج کیا ہے؟
اکثر کیسز ہلکے ہوتے ہیں اور گھریلو تدابیر سے ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ علاج مرض کی وجہ پر منحصر ہوتا ہے، جس میں شامل ہیں:
-
عام درد ختم کرنے والی ادویات جیسے آئبوپروفین (Advil®, Motrin®)
-
ڈاکٹر کے مشورے سے اسٹیرائڈ قطرے (Corticosteroid eye drops)
-
گرم یا ٹھنڈی پٹیاں (صاف کپڑا استعمال کریں، تولیہ شیئر نہ کریں)
-
مصنوعی آنسو (Artificial tears) تاکہ جلن کم ہو
-
کانٹیکٹ لینس کے بجائے عینک کا استعمال جب تک علامات ختم نہ ہوں
اگر بیماری کسی جلن پیدا کرنے والے عنصر (جیسے دھواں یا گرد) سے ہوئی ہو تو آنکھ کو نیم گرم پانی سے اچھی طرح دھوئیں۔ لیکن اگر کسی تیز کیمیکل (جیسے تیزاب یا ڈرین کلینر) کا سامنا ہو تو فوراً آنکھ کو پانی سے دھوئیں اور ہنگامی طبی امداد حاصل کریں۔
اگر آپ پِنک آئی کی علامات محسوس کر رہے ہیں، خاص طور پر اس علاقے میں جہاں کیسز زیادہ ہیں، تو دوسروں سے فاصلہ رکھیں، صفائی کا خاص خیال رکھیں، اور اگر علامات برقرار رہیں یا بڑھ جائیں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








