دستاویزات میں خود کو بچے ظاہر کرکے بیرون ملک جانے کی کوشش کرنے والے 5 افراد کیسے پکڑے گئے؟ فراڈ کی غضب کہانی

تازہ ترین

تازہ ترین

واقعہ میں ایرپورٹ اتھارٹی کا اہلکار بھی ملوث، علامتی تصویر

ایف آئی اے امیگریشن نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے پانچ مسافروں کو آف لوڈ کردیا جو جعلی طریقے سے خود کو بچوں کے طور پر ظاہر کرکے بیرون ملک جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

تفصیلات کے مطابق یہ مسافر وزٹ ویزا پر تھائی لینڈ کے راستے ہانگ کانگ جا رہے تھے۔ ان میں بشریٰ، امجد علی، علیزے شاہین، محمد عدنان اور ذیشان علی خان شامل ہیں۔ امجد علی دراصل مسافر خاتون بشریٰ کا حقیقی بیٹا ہے، جبکہ دیگر تین مسافروں کو غلط طور پر اس کے بچے ظاہر کیا گیا تھا۔

مسافر علیزے شاہین، محمد عدنان اور ذیشان علی، بشریٰ کے حقیقی بچے نہیں ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ مسافروں کے لواحقین نے ایجنٹ کو فی کس ڈیڑھ کروڑ روپے ادا کیے۔ ایجنٹ نے جعل سازی سے نادرا کا ریکارڈ تبدیل کیا اور بھاری رقوم وصول کرنے کے بعد تینوں بچوں کو اعجاز علی کے خاندانی ریکارڈ میں شامل کر دیا۔ نادرا کے ریکارڈ میں تینوں کا پتہ صوابی درج تھا۔

تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ علیزے شاہین، محمد عدنان اور ذیشان علی کا تعلق بالترتیب سرگودھا، اٹک اور خوشاب سے ہے۔ پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کا ایک اہلکار، جو ان مسافروں کی سہولت کاری میں شامل تھا، کو بھی تحقیقات میں شامل کر لیا گیا ہے۔

مزید یہ کہ اس اہلکار کے رابطے میں رہنے والے دیگر عناصر کی معلومات بھی حاصل کر لی گئی ہیں۔ تمام مسافروں کو مزید قانونی کارروائی کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد منتقل کر دیا گیا ہے۔

ایف آئی اے کے ترجمان نے بتایا کہ تحقیقات کا دائرہ نادرا اور پاسپورٹ حکام کی ممکنہ شمولیت تک بڑھا دیا گیا ہے۔

Related Posts