پاراچنار میں قبائلی گروہوں کے درمیان تصادم کی وجہ کیا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

خیبر پختونخواکے ضلع پاراچنار میں زمین کے تنازع پر بوشہرہ اور ڈنڈار قبائل سے تعلق رکھنے والے مسلح شخص کی فائرنگ سے متعدد افراد ہلاک ہوگئے۔

ضلع پاراچنار میں یہ افسوسناک واقعہ 8 اور 9 جولائی کے درمیان پیش آیا۔

پاراچنار میں کیا ہورہا ہے؟

خیبر پختونخوا کے ضلع پاراچنار میں زمین کے تنازع پر فائرنگ و گولا باری کے نتیجے میں چھ افراد جاں بحق اور انتیس زخمی ہوگئے۔

زمین پر تنازع کے نتیجے میں تصادم پارا چنار کے علاقے اپرکرم شاملاتی میں ہوا۔ فائرنگ اور گولہ باری سے علاقہ لرز اٹھا اور لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ لڑائی کے بعد مقامی جرگے کی مداخلت سے عارضی جنگ بندی کر دی گئی۔ تاہم، اطلاعات کے مطابق، جنگ بندی صرف پیر یعنی آج تک کی گئی ہے۔

پاراچنار میں یہ سب کیوں ہورہا ہے؟

رپورٹس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ شیعہ سنی فرقوں کے درمیان تشدد کا نتیجہ ہے پاکستان میں گزشتہ 30-40 سالوں میں شیعہ اور سنی گروپوں کے درمیان فرقہ وارانہ تشدد کے نتیجے میں 4000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد

تقریباً 97 فیصد پاکستانی یا تو سنی یا شیعہ مسلمان ہیں، جو پاکستان کے دو سب سے بڑے مذہبی گروہ ہیں۔ ایک اندازے ے مطابق پاکستان میں شیعہ اسلام کے پیروکاروں کی آبادی کا 9 سے 15 فیصد اور سنی 70 سے 75 فیصد کے درمیان سمجھا جاتا ہے۔

انسانی حقوق کے ادارے کے مطابق پاکستان میں 1987 سے 2007 کے درمیان شیعہ سنی فرقہ وارانہ حملوں میں تقریباً 4000 افراد ہلاک ہوئے اور 2008 سے اب تک ہزاروں شیعہ سنی شدت پسندوں کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔

Related Posts