سوشل میڈیا پر آن لائن ہراسانی کے شرمناک اسکینڈل کے چرچے عام ہیں، جس کی 19 منٹ طویل نامناسب ویڈیو پر گفتگو نے ہنگامہ کھڑا کردیا، جس کے نتیجے میں آن لائن ہراسانی، غلط معلومات کے پھیلاؤ اور ڈیجیٹل پرائیویسی کے متعلق سنگین سوالات نے سر اٹھا لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ ویڈیو 19 منٹ کی وائرل ویڈیو کہلائی، جس کے متعلق دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اس میں ایک بہت نجی نوعیت کا واقعہ دکھایا گیا ہے جس کی صداقت تاحال ثابت نہ ہوسکی۔ ویڈیو سے متعلق کلپ انسٹاگرام، ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر زیرگردش رہا۔
اگرچہ ویڈیو نے بڑی تعداد میں عوامی توجہ حاصل کرلی ہے تاہم اب تک کسی قابلِ اعتماد ذریعے سے اس کی اصلیت یا ویڈیو میں شامل افراد کی شناخت کی تصدیق نہیں ہوسکی, تاہم سوشل میڈیا پر اس کے حوالے سے مختلف چہ مگوئیاں اور قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ مثال کے طور پر اس انسٹاگرام پوسٹ میں 19منٹ کے ویڈیو کی میم کا ذکر ہے۔
انسٹاگرام پوسٹ میں نوجوان لڑکی یہ کہتی دکھائی دیتی ہے کہ اس لڑکی نے تو خودکشی کرلی۔ میں نے ویڈیو نہیں دیکھی اور کہا جارہا تھا کہ وہ اے آئی کی بنائی ہوئی ویڈیو ہے۔ ویڈیو چاہے کسی نے بھی بنائی ہو، ویڈیو شیئر کرنے والے ہی اس کے ذمہ دار ہیں۔ کوئی ایک شخص نہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ وائرل کی گئی ویڈیو جو 19 منٹ طویل ہے، اس تک رسائی دینے کا دعویٰ کرنے والے بہت سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس عوام کو دھوکے پر مبنی لنکس دے رہے ہیں جو فراڈ، فشنگ یا نقصان دہ مواد پر مبنی ہوسکتے ہیں۔
ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر سویٹ زنت کو بھی اس اسکینڈل میں گھسیٹ لیا گیا، تاہم انہوں نے عوامی طور پر اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کسی اور کا کوڑا کرکٹ مجھ پر ڈالا جارہا ہے۔ جھوٹے الزامات بہت ذاتی اور نفسیاتی قسم کی ذہنی اذیت کا باعث بن سکتے ہیں۔کچھ اسی قسم کے بیانات دیگر سوشل میڈیا صارفین نے بھی شیئر کیے۔
تاہم ڈیجیٹل ماہرین کا ماننا ہے کہ ویڈیو ممکنہ طور پر ڈیپ فیک سے بنائی گئی ہوسکتی ہے اور غلط استعمال کے باعث مصنوعی ذہانت بدنامی، دباؤ، بلیک میلنگ اور ساکھ کی بربادی جیسے سنگین نتائج لاسکتی ہے۔ ویڈیو سے متعلق اصل حقائق سامنے نہیں آسکے تاہم اس سے پتہ چلتا ہے کہ موجودہ دور میں کس طرح کتنے ہی بے گناہ افراد کی زندگیاں سوشل میڈیا کی چیرہ دستیوں سے محفوظ نہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








