کئی ماہ کی قیاس آرائیوں کے بعد نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نیٹ میٹرنگ کے نظام کو ختم کرتے ہوئے نیٹ بلنگ نافذ کر دی ہے، جس کے تحت آئندہ سولر صارفین (پروزیومرز) سے خریدی جانے والی بجلی کی قیمت 26 روپے فی یونٹ سے کم ہو کر 10 سے 11 روپے فی یونٹ رہ گئی۔یوں حکومت سے حاصل بجلی بدستور مہنگی ہے جبکہ صارفین کی سستی کردی گئی۔
نئے نظام کے نفاذ کے بعد پرانے نیٹ میٹرنگ صارفین میں خاصی تشویش اور ابہام پیدا ہو گیا ہے، کیونکہ وہ پہلے یونٹ کے بدلے یونٹ کے اصول کے عادی تھے۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ نیٹ بلنگ کیا ہے، یہ نیٹ میٹرنگ سے کیسے مختلف ہے اور اس کے اثرات موجودہ اور نئے سولر صارفین پر کس حد تک پڑیں گے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے تحت سولر پینلز کے ذریعے بجلی پیدا کرنے والے صارفین اپنی ضرورت کے مطابق بجلی استعمال کرتے تھے اور اضافی یونٹس قومی گرڈ کو فراہم کر دیتے تھے۔ اگر پیداوار استعمال سے زیادہ ہوتی تو صارف کے بجلی بل میں کمی ہو جاتی تھی اور بعض صورتوں میں بل صفر تک بھی آ جاتا تھا۔
تاہم نئے قواعد کے مطابق سولر صارفین اب اپنی اضافی بجلی گرڈ کو پہلے کے مقابلے میں کہیں کم نرخ پر فروخت کریں گے، جبکہ گرڈ سے حاصل کی جانے والی بجلی پر وہی بلند ٹیرف لاگو ہوگا جو عام (غیر سولر) صارفین سے وصول کیا جاتا ہے۔
اس طرح نیٹ بلنگ کے نئے نظام میں بنیادی تصور ہی تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اب برآمد (ایکسپورٹ) اور درآمد (امپورٹ) شدہ یونٹس کو آپس میں ایڈجسٹ نہیں کیا جائے گا۔ پہلے ایک برآمد شدہ یونٹ، ایک درآمد شدہ یونٹ کے برابر سمجھا جاتا تھا، مگر اب صورتحال یہ ہے کہ ایک درآمد شدہ یونٹ کی قیمت پوری کرنے کے لیے کم از کم پانچ یونٹس برآمد کرنا پڑ سکتے ہیں۔
نئے نظام کے تحت گرڈ کو فراہم کی جانے والی بجلی کی قیمت الگ مقرر ہوگی، جبکہ گرڈ سے حاصل کی جانے والی بجلی کا بل علیحدہ طور پر معیاری اور بلند ٹیرف پر ادا کرنا ہوگا۔
اعداد و شمار کے مطابق صارف کی جانب سے گرڈ کو فراہم کی جانے والی بجلی قومی اوسط قیمت، یعنی تقریباً 11 روپے فی یونٹ کے حساب سے خریدی جائے گی، جبکہ گرڈ سے حاصل کی جانے والی بجلی کی قیمت 40 سے 50 روپے فی یونٹ یا بعض صورتوں میں اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
اس لیے ماہرین کا ماننا ہے کہ نیٹ بلنگ اور نیٹ میٹرنگ کے درمیان اس فرق کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ یہی فرق سولر صارفین کے لیے مالی فائدے یا نقصان کی بنیاد بنے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








