کائنات کا سب سے حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ یہاں مادؔے سے زیادہ جگہ خلا نے حاصل کر رکھی ہے، حالانکہ صرف ایک کہکشاں میں اربوں ستارے موجود ہیں۔ سائنسدانوں کاماننا ہے کہ ایک روز ستارے غائب ہوجائیں گے اور آسمان خالی ہوجائے گا۔
اسلام نے قیامت کے نام سے یومِ حساب کی بات کی جہاں ہر انسان کو اپنے اچھے برے اعمال کا حساب دینا ہوگا اور مسلمانوں سمیت دیگر الہامی مذاہب یومِ حساب پر یقین رکھتے ہیں، اس لیے دنیا کی زیادہ تر آبادی اس پر یقین رکھتی ہے کہ کائنات ایک روز ختم ہوجائے گی اور یقیناً یہی دن قیامت کا ہوگا، لیکن سائنس نے بہت سے ایسے حقائق بیان کیے ہیں جو یومِ حساب سمیت دیگر عوامل کے باعث انسان کو خوف میں مبتلا کردیتے ہیں۔ آئیے ایسے ہی 10 حقائق کا جائزہ لیں۔
سب سے پہلی سائنسی حقیقت یہ ہے کہ کائنات آہستہ آہستہ پھیل رہی ہے اور اجرامِ فلکی کے مابین فاصلہ بڑھ رہا ہے۔ اس لیے ستارے آسمان سے غائب ہوجائیں گے۔ سب سے پہلے یعنی کم و بیش 1 سے 10 ارب سال میں کائنات کا قابلِ دسترس حصہ بہت کم رہ جائے گا۔
دوسری سائنسی حقیقت یہ ہے کہ کائنات ساکن نہیں بلکہ متحرک ہے اور سائنسدانوں کا ماننا یہ ہے کہ یہ کائنات کسی ایک سمت کی جانب جارہی ہے اور وہ سمت کیا ہے؟ ہماری منزل کہاں پر ہے؟ کسی کو کچھ معلوم نہیں اور سائنسدانوں کا ماننا یہ ہے کہ یہ قوت تمام ہی کہکشاؤں کو اپنی جانب کھینچ رہی ہے۔
تیسری سائنسی حقیقت یہ ہے کہ سورج خود بھی گردش کر رہا ہے اور ملکی وے کہکشاں کے مرکز کے گرد گردش کرتا ہے جہاں ایک زبردست بلیک ہول موجود ہے۔ یہ عمل آج بھی جاری ہے اور آئندہ لاکھوں اربوں سال تک یہ عمل جاری رہنے کا امکان ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارا شمسی نظام کہاں جارہا ہے۔
چوتھی سائنسی حقیقت یہ ہے کہ ایسے بے شمار سیارے موجود ہیں جہاں سائنسی طور پر زندگی ممکن ہوسکتی ہے لیکن تحقیق کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں زندگی شاید ماضی میں کبھی رہی ہو، مگر اب نہیں۔ اور خوف یہ ہے کہ شاید یہاں خلائی مخلوق جسے ایلین کہا جاتا ہے، موجود ہے لیکن کسی بہت ہی ایڈوانس ٹیکنالوجی کے باعث انسان کو نظر نہیں آتی۔
پانچویں سائنسی حقیقت یہ ہے کہ روگ پلانیٹس کے نام سے ایسے بے شمار سیارے موجود ہیں جو ہماری زمین یا مریخ سمیت دیگر سیاروں کی طرح کسی سورج کے گرد نہیں گھومتے بلکہ خلا میں بے سمت تیر رہے ہیں۔ ان کی تعداد اربوں میں نہیں بلکہ ہزاروں ارب یعنی ٹریلینز میں ہے۔ کون سا سیارہ کب کہاں جاپہنچے گا اور کس کہکشاں میں تباہی پھیلائے گا، کچھ پتہ نہیں۔
چھٹی سائنسی حقیقت یہ ہے کہ کائنات کا زیادہ تر حصہ وہ ہے جسے انسان دیکھ ہی نہیں سکتا۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ہماری نظر میں صرف 5فیصد کہکشاں ہے اور باقی 95فیصد ہمارے علم میں نہیں اور اسے ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کا نام دیا گیا ہے۔ اسے براہِ راست دیکھا نہیں جاسکتا اور اگر مانا نہ جائے تو کائنات کی موجودگی ہی ثابت نہیں کی جاسکتی۔
ساتویں سائنسی حقیقت یہ ہے کہ مارچ 2025 میں ایک انتہائی بڑے ستارے کے کور میں سپر نووا دھماکہ ہوا جو بگ بینگ کے تقریباً 1.8ارب سال بعد ہونے والے دھماکے کے ریکارڈ کو توڑ گیا۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ مستقبل قریب میں زمین کے قریب ایسا کوئی دھماکہ ہونے کا خدشہ نہیں، لیکن کوئی سائنسدان اس کی کوئی ٹھوس ضمانت بھی نہیں دے سکتا اور اس دھماکے کی قربت کے اعتبار سے اس سے ہونے والی تباہی کا اندازہ بھی نہیں لگایاجاسکتا۔
آٹھویں سائنسی حقیقت یہ ہے کہ ہمارے نظام شمسی سمیت دیگر کائناتی مقامات پر بہت سی چٹانیں، ملبہ اور پتھر بھی سیاروں کے ساتھ تیر رہے ہیں جو کسی بھی وقت زمین سے ٹکرا سکتے ہیں، تاہم سائنسدان ، خاص طور پر ناسا اس کا مشاہدہ کرتا رہتا ہے اور زمین کو اس سے محفوظ رکھنے کیلئے اقدامات بھی کیے جاتے ہیں، لیکن ایسا کوئی بھی پتھر زمین کیلئے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے جسے ناسا سمیت دیگر ادارے قابو کرنے کیلئے تیار نہ ہوں۔
نویں سائنسی حقیقت یہ ہے کہ زمین پر آکسیجن، پانی اور سورج کی روشنی زندگی کی موجودگی کیلئے لازمی عناصر ہیں، تاہم سورج ہمیشہ زندہ نہیں رہے گا۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ آئندہ 4 سے 5ارب سال میں سورج کا ایندھن ختم ہوجائے گا، جس کے بعد وہ ایک سرخ دیو میں تبدیل ہوجائے گا۔ زمین کو نگل بھی سکتا ہے اور اتنا گرم بھی کرسکتا ہے کہ یہاں انسانی زندگی ممکن بھی نہیں ہوسکے گی۔
دسویں سائنسی حقیقت یہ ہے کہ سائنسدان آج تک اس چیز کا اندازہ نہیں لگا سکے کہ کائنات میں سیاہ مادے اور سیاہ توانائی جسے ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کہتے ہیں، اس کے علاوہ بھی کوئی گہری توانائی اور مادہ موجود ہے جو عین ممکن ہے کہ روشنی کی تیزی سے ہماری سمت بڑھ رہا ہو اور آئندہ کچھ سال میں موجودہ فزکس کے قوانین ہی بدل کر رکھ دے، جیسا کہ کوانٹم فزکس پہلے ہی کرچکی ہے۔
سب سے آخر میں یہ بات اہم ہے کہ کائنات کے اختتام یا قیامت کی آمد سمیت بنی نوع انسان کی موت کی بے شمار وجوہات اور حقائق ہوسکتے ہیں، لیکن زمین پر زندگی کے آثار اور حقائق اب تک معلوم سائنس میں موت کی تمام دیگر وجوہات پر بھاری ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ حقیقت پر مبنی بے شمار خدشات کے باوجود زندگی گزشتہ ہزاروں سال سے اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








