سندھ طاس معاہدہ کیا ہے اور کیا بھارت اسے یکطرفہ ختم کرسکتا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

پہلگام حملے کے بعد بھارت کی انتہا پسند مودی سرکار نے آپے سے باہر ہوکر مختلف پاکستان دشمن اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں ایک سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا بھی شامل ہے۔

 آئیے جانتے ہیں سندھ طاس معاہدہ کیا ہے، اس معاہدے کا پس منظر اور مقصد کیا ہے اور کیا بھارت اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم یا معطل کرنے کا مجاز ہے؟

سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟

سندھ طاس معاہدہ (Indus Waters Treaty) 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والا آبی معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا طریق کار طے کیا گیا ہے۔

معاہدے کے تحت چھ دریاؤں سندھ، جہلم، چناب، راوی، بیاس، اور ستلج کو دونوں ممالک کے درمیان تقسیم کیا گیا۔ تین مشرقی دریا راوی، بیاس اور ستلج بھارت کو دے دیے گئے، جبکہ تین مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب پر پاکستان کا حق ملکیت تسلیم کیا گیا۔

بھارت کو مغربی دریاؤں سے صرف محدود مقدار میں پانی ذخیرہ کرنے اور بجلی پیدا کرنے کی اجازت دی گئی، مگر وہ پانی کا بہاؤ روکنے یا سمت تبدیل کرنے کا مجاز نہیں۔

پس منظر اور مقصد:

اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان پانی کے استعمال پر واضح اصول و ضوابط طے کرنا تھا تاکہ کسی بھی ممکنہ تصادم یا کشیدگی سے بچا جا سکے۔ پاکستان چونکہ ایک زرعی ملک ہے، اس لیے ان دریاؤں پر اس کا انحصار بہت زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کی معاشی اور زرعی زندگی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

کیا بھارت یہ معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم کر سکتا ہے؟

بین الاقوامی قوانین کے مطابق بھارت اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتا۔ معاہدے میں کسی بھی فریق کو معطل یا ختم کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا۔

کسی بھی تنازعے کی صورت میں حل کے لیے عالمی بینک، ثالثی عدالت اور غیر جانبدار ماہرین کی سہولت رکھی گئی ہے۔ اگر بھارت یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو ختم یا معطل کرنے کا قدم اٹھاتا ہے، تو یہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی بلکہ خطے میں ایک خطرناک آبی جنگ کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

Related Posts