سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں چند شخصیات بظاہر کسی تقریب یا پرتعیش ہوٹل میں کھانا کھا رہی ہیں جبکہ ان کے سامنے ایک خاتون رقص کر رہی ہے۔
ویڈیو سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ صارفین نے اس پر لعن طعن اور ملامت کی بوچھاڑ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل سراسر ناجائز عیاشی اور صنفِ نازک کی تذلیل کے مترادف ہے کہ ایک عورت کو نچوا کر اس کے سامنے کھانے کھائے جائیں۔
تاہم ویڈیو میں موجود افراد کی تاحال عوامی سطح پر شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ یہ واضح نہیں کہ وہ کوئی سیاسی رہنما ہیں یا سماجی شخصیات۔ اس کے باوجود عوامی حلقوں نے کھانے کے اس پرتعیش اس انداز پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔
کیا یہ پاکستان کے کسی ریسٹورنٹ کی وڈیو ہے؟؟؟ pic.twitter.com/wncXsoVwA6
— Fayyaz Shah (@RebelByThought) September 17, 2025
دوسری جانب ویڈیو کے وینیو پر بھی بحث جاری ہے۔ بعض صارفین نے کمنٹس میں نشاندہی کی ہے کہ یہ لاہور کے ایک معروف فائیو اسٹار ہوٹل کے “بخارا کارنر” کا منظر ہے، جہاں ایک مخصوص ڈیل کے تحت ثقافتی پس منظر میں نوابی اسٹائل کا کھانا سرو کیا جاتا ہے۔
ان دعووں کے مطابق ویڈیو میں رقص کرنے والی خاتون کوئی عام فرد نہیں بلکہ ہوٹل سے وابستہ پیشہ ور رقاصہ ہے، جو اس پروگرام کا حصہ ہوتی ہے۔
یہ ویڈیو فی الحال مختلف پلیٹ فارمز پر گردش کر رہی ہے اور سماجی و عوامی حلقوں میں بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








