واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے وہ کیا ہے جو کوئی اور نہ کرسکا، ہم نے 10ماہ میں آٹھ جنگیں رکوائیں، تاہم اس کی حقیقت بھی سامنے آگئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایک سال قبل امریکا مردہ اور ناکامیوں کے دہانے پر تھا، لیکن ایک سال میں جو ہم نے حاصل کیا، کوئی اور نہیں کرسکا، ہم نے 10 مہینوں میں 8 جنگیں رکوادیں۔ سابق صدر کی پالیسیاں دوبارہ نافذ نہیں ہونے دیں گے۔
سابق صدر جوبائیڈن کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بائیڈن دور میں غیر قانونی مہاجرین نے نوکریاں حاصل کیں، ہماری انتظامیہ میں تمام نئی نوکریاں امریکا میں پیدا ہونے والوں نے حاصل کی ہیں۔ مجھے امریکی عوام کی جانب سے کرپٹ نظام ختم کرنے کیلئے بھاری مینڈیٹ دیا گیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا میں غیر قانونی آمدورفت کا سلسلہ بند کردیا گیا ہے۔ منشیات کی زمین اور سمندر کے راستے آمد بھی 94فیصد کم ہوگئی۔ امریکا جو بد ترین تھا، بہترین ملک بن گیا ہے۔
کیا واقعی 8جنگیں رکوائی گئیں؟
سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ امریکی صدر نے جن 8 جنگوں کا ذکر کیا ہے ان میں آرمینیا اور آذربائیجان، کوسووو اور سربیا، مصر اور ایتھوپیا، اسرائیل اور حماس (غزہ جنگ بندی)، اسرائیل اور ایران، پاکستان اور بھارت اور تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی جنگیں شامل ہیں۔
تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ تمام 8جنگیں امریکی صدر نے روکیں؟ تو اس کا جواب جزوی طور پر تو مثبت ہے تاہم مکمل طور پر نہیں کیونکہ ان میں سے متعدد جنگیں محدود پیمانے پر لڑی گئیں جن میں ایران اسرائیل تنازعہ شامل ہے۔ اسی طرح پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ بھی محدود رہی۔
یہ الگ بات کہ جنگیں رکوانے کے معاملے پر پاکستان نے امریکی صدر کا ساتھ دیا اور نوبل کے امن انعام کیلئے سفارش تک بھیج کر یہ واضح کیا کہ پاکستان اور بھارت کی جنگ رکوانے میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار کلیدی تھا، تاہم بھارت کی نریندر مودی حکومت نے یہ بات تسلیم نہیں کی۔ اسی طرح تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے مابین جنگ بندی بھی تاحال کامیاب نہیں مانی جاتی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








