سخت ترین سیکیورٹی میں موجود خفیہ کمپیوٹر سسٹم ولو کیا ہے؟ جانیں یہ کیسے دنیا کے مستقبل کی پیش گوئی کرے گا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ بی بی سی )

گوگل کے کوانٹم چیف ہارٹمٹ نیون نے اعلان کیا ہے کہ امریکی ریاست کیلیفورنیا میں گوگل کے دفتر کی کوانٹم اے آئی لیب میں موجود کمپیوٹر ولو دنیا کا سب سے طاقتور کمپیوٹر ہے اور مستقبل میں یہ کمپنیوں اور ممالک کی کامیابی اور ناکامی کی پیش گوئی بھی کر سکے گا۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ولو نے ایسا پیچیدہ مسئلہ چند منٹوں میں حل کر لیا جسے دنیا کے بہترین روایتی کمپیوٹر کو حل کرنے میں ہزاروں کھرب سال لگ جاتے۔ لیب میں اس کمپیوٹر کے لیے سخت ترین حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور اس پر خفیہ تحفظات اور برآمدی کنٹرولز بھی لاگو ہیں۔

ہارٹمٹ نیون نے بتایا کہ ولو صرف ایک کمپیوٹر نہیں بلکہ ایک جدید ٹیکنالوجی ہے جو فنانشل سکیورٹی، بٹ کوائن، حکومت کے راز، عالمی معیشت اور دیگر اہم شعبوں میں استعمال ہو سکتی ہے۔ یہ کمپیوٹر توانائی کی پیداوار، خوراک کی پیداوار، ادویات کی دریافت، ماحولیاتی تبدیلی اور انسانی بھوک جیسے مسائل کے حل میں مدد دے گا۔

ولو ایک بڑے ڈرم کے برابر سائز کے ڈسکس اور تاروں کے ذریعے کام کرتا ہے جو انتہائی سرد درجہ حرارت میں رکھے جاتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی خاص بات یہ ہے کہ یہ کوانٹم بٹس یا کیوبٹس کے ذریعے ڈیٹا کئی حالتوں میں پروسیس کر سکتا ہے جبکہ عام کمپیوٹر صرف دو حالتوں یعنی صفر یا ایک میں ڈیٹا کو سنبھال سکتے ہیں۔

پروفیسر سر پیٹر نائٹ، چیئرمین نیشنل کوانٹم ٹیکنالوجی پروگرامز بورڈ کے مطابق ولو نے کوانٹم کمپیوٹرز میں نئی راہیں کھول دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمپیوٹر ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن بار بار اصلاح سے اس نے غلطیوں کی اصلاح اور درست نتائج پیدا کرنے کی صلاحیت ثابت کر دی ہے۔

ماہرین کے مطابق کوانٹم کمپیوٹرز مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اصل طاقت فراہم کریں گے اور ریاستی راز، مالیاتی نظام اور عالمی معیشت کے لیے اہم ثابت ہوں گے حتیٰ کہ کرپٹو کرنسیز کو بھی اس ٹیکنالوجی کے مطابق دوبارہ جانچنا پڑ سکتا ہے۔

اس طرح ولو نہ صرف کمپیوٹنگ کی دنیا میں انقلاب برپا کر رہا ہے بلکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی زندگی کے کئی پہلوؤں کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Related Posts