ایران نے اسرائیل پر حملے کے بعد ایک اور بڑی دھمکی دے دی، جبکہ اسرائیل نے ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملوں کا اعلان کیا ہے۔
اسرائیل پر حملے کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل پر میزائل حملہ گزشتہ ہفتے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ اور اس سال کے شروع میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے جواب میں کیا گیا ہے۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی ”فارس“ نے رپورٹ کیا ہے کہ آئی آر جی سی نے اپنے بیان میں کہا، ’اسماعیل ہنیہ، حسن نصر اللہ اور (آئی آر جی سی گارڈز کمانڈر) نیلفرشون کی شہادت کے جواب میں، ہم نے مقبوضہ علاقوں کے قلب کو نشانہ بنایا‘۔
پاسداران انقلاب نے اس بیان میں اسرائیل کو دھمکی بھی دی ہے کہ اگر اسرائیل نے جوابی کارروائی کی تو وہ مزید حملے کرے گا۔
پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس کی فضائیہ نے اسرائیل کے ’اہم ٹھکانوں‘ کو نشانہ بنایا ہے اور اس کی تفصیلات کا اعلان وہ بعد میں کریں گے۔
دوسری طرف ایرانی حملے کے بعد اسرائیل کی جانب سے ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملے کی منصوبہ بندی سامنے آئی ہے۔الجزیرہ کے مطابق 13 اپریل کو جب ایران نے پچھلی بار اسرائیل پر میزائل داغے تھے تو اس نے پس پردہ چینلز کے ذریعے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کو آگاہ کر دیا تھا لیکن اس مرتبہ اسرائیل کو ایرانی حملے کی پیشگی اطلاع صرف چند گھنٹے پہلے ملی۔
الجزیرہ کی خاتون تجزیہ کار کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں کہ اس حملے سے ایران کیا حاصل کرنا چاہتا ہے کیا وہ اپنی طاقت کا اظہار کرنے کا خواہش مند ہے یا پھر اسرائیل کے سامنے سرخ لکیر لگانا چاہتا تھا لیکن اسرائیلی حکام کیا چاہتے ہیں یہ بالکل واضح ہے۔
تجزیہ نگار نے کہا کہ حسن نصر اللہ کے قتل سمیت پچھلے چند روز میں ہم نے جو کچھ دیکھا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیتن یاہو اسرائیل کو اس حملے پر مجبور کر رہے تھے جس کے بعد انہیں وہ جواز مل گیا ہے جو وہ چاہتے تھے یعنی ایران کی چھ ایٹمی تنصیبات پر حملہ۔ الجزیرہ کی تجزیہ نگار نے کہا کہ اسرائیل اور نیتن یاہو حماس اور حزب اللہ کے نام پر ایران کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








