سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کی گفتگو کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے صحافی پر بدترین تشدد کیا، جس کے بعد میڈیا نمائندوں نے میڈیا ٹاک کا بائیکاٹ کر دیا۔
نجی ٹی وی کے رپورٹر طیب بلوچ کو پی ٹی آئی کارکنوں نے تشدد کا نشانہ بنا کر زبردستی اڈیالہ جیل کے باہر علیمہ خان کی میڈیا ٹاک سے باہر نکال دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق قیادت کے سامنے تشدد ہوتا رہا لیکن کسی نے کارکنوں کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر ایس پی صدر نبیل کھوکھر، اے ایس پی زینب ایوب اور ایس ایچ او اعزاز عظیم پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے۔ متاثرہ صحافیوں کی جانب سے اڈیالہ چوکی میں تحریری درخواست دی جا رہی ہے، جبکہ پولیس نے تشدد کرنے والے افراد کی گرفتاری کے لیے نفری طلب کر لی ہے۔
صحافی نے کیا پوچھا تھا؟
ذرائع کے مطابق طیب بلوچ نے گزشتہ روز علیمہ خان سے میڈیا ٹاک کے دوران شوکت خانم اسپتال کے فنڈز سے 2004 میں امریکا میں جائیداد خریدنے کے حوالے سے سوال کیا تھا، جس پر کارکنان برہم ہوگئے۔ آج موقع ملنے پر انہیں پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
اس افسوسناک واقعے کے بعد میڈیا نمائندوں نے کوریج روک دی، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی پی ٹی آئی کے رویے پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی صرف من پسند یوٹیوبرز کو برداشت کرتی ہے، مگر جو صحافی سخت اور چبھتے سوالات کریں، ان پر دباؤ اور تشدد کیا جاتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








