چیٹ جی پی ٹی سے مراد اوپن اے آئی کا وہ قابلِ تعریف چیٹ بوٹ ہے جس نے اپنی آمد کے ساتھ ہی فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب کی رنگینیوں سے بھرپور ورچؤل دنیا میں مست لاکھوں کروڑوں سوشل میڈیا صارفین کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلی۔
مغربی ممالک میں جس تعلیمی رجحان کی سب سے زیادہ حوصلہ افزائی اور پسماندہ و ترقی پذیر ممالک میں سب سے زیادہ حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، وہ سوال ہے اور چیٹ جی پی ٹی کا سارا کام اسی سوال کے گرد گھومتا ہے تو سوال یہ ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کیا تمام سوالوں کے درست جواب دیتا ہے؟ اور کیا کسی سوال کا جواب غلط بھی ہوتا ہے؟ آئیے حقائق پر نظر ڈالتے ہیں۔
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ چیٹ جی پی ٹی سے تمام تر سوال و جواب زیادہ تر انگریزی زبان میں کیے جاتے ہیں اور اردو لکھنے اور پڑھنے والے لوگ اگر سوال ہی نہ کرسکیں تو جواب کیسے ملے گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ گوگل ٹرانسلیٹ سے مدد حاصل کریں، اپنا سوال اردو میں لکھیں جس کا انگریزی ترجمہ سامنے نمودار ہوگا جو چیٹ جی پی ٹی کے سامنے رکھا جاسکتا ہے۔
چیٹ جی پی ٹی سے کیا کام لیا جاسکتا ہے؟
سب سے اہم کام جو چیٹ جی پی ٹی کرتا ہے وہ مواد کی تخلیق یا کونٹینٹ رائٹنگ ہے، اس میں بلاگ پوسٹنگ، آرٹیکل رائٹنگ، بچوں اور بڑوں کی کہانیاں، ڈراموں کے اسکرپٹ، فلم کی کہانی کا بہترین پلاٹ، مکالمہ نگاری، مضمون نگاری، کالم اور اداریہ نگاری جیسے اہم کام شامل ہیں جن میں کچھ معمولی اغلاط کو چھوڑ کر چیٹ جی پی ٹی کا کام بہت سراہا جارہا ہے۔
ایچ ٹی ایم ایل کوڈنگ ہو، پی ایچ پی کے ذریعے ویب ڈویلپمنٹ، پائتھون کے کوڈز لکھوانا، چھوٹی موٹی یوٹیلٹی ایپ کی طرح کی ویب سائٹ مثلاً یوٹیوب تھمب نیل ڈاؤن لوڈر بنانا، ایک مکمل ویب سائٹ کی تخلییق جو عام صارفین کو کسی کمپنی کی معلومات مہیا کرسکے جس میں ہوم پیج اور سروسز سے لے کر کونٹیکٹ نمبر تک موجود ہوں، یہ سب چیٹ جی پی ٹی سے کرایا جاسکتا ہے۔
آپ کو کیا معلوم ہونا چاہئے؟
چیٹ جی پی ٹی سے سوال کرنے والے کو یہ پتہ ہونا چاہئے کہ اس کے سوال کا اصل میں جواب کیا ہے، بصورتِ دیگر اگر چیٹ جی پی ٹی نے غلطی کی اور آپ نے وہ غلط جواب جوں کا توں آگے فارورڈ کردیا تو چھوٹے موٹے مسائل سے لے کر بڑے بڑے مصائب سامنے آسکتے ہیں، اس لیے احتیاط ہی بہتر ہے۔
سوال پوچھنے کا درست طریقہ ا اور سوال کا جواب دونوں آپ کے ذہن میں ہوں تو چیٹ جی پی ٹی کی مدد وقت کے ضیاع سے بچا سکتی ہے لیکن اگر آپ کو کسی سوال کا جواب معلوم نہیں اور چیٹ جی پی ٹی سے پوچھ ہی لیا تو گوگل پر بھی اس کے متعلق تحقیق کرلیں کہ کیا وہی آپ کے سوال کا درست جواب ہے؟
چیٹ جی پی ٹی کے غلط جوابات؟
پہلی بات جو چیٹ جی پی ٹی نہیں کرسکتا، وہ بڑے بڑے دعووں کے باوجود انسانوں کی سطح پر بات کے سیاق و سباق کو سامنے والے شخص کے مزاج کے مطابق سمجھنا ہے، اس لیے اپنے سوال میں ہر ضروری تفصیل ضرور شامل کریں، مثلاً یہ مت پوچھیں کہ وزیراعظم کا نام کیا ہے؟ پوچھیں پاکستان کا وزیراعظم کون ہے؟ لیکن جواب آئے گا عمران خان، کیونکہ ابھی تک اس کی روزمرہ معلومات اپ ڈیٹ نہیں کی گئیں۔
حالانکہ عمران خان کے بعد شہباز شریف وزیراعظم بنے، پھر نگران حکومت کے وزیراعظم انوار الحق کاکڑ بنے اور پھر وزیراعظم ایک بار پھر شہباز شریف کو بنا دیا گیا، یہ تینوں ادوار چیٹ جی پی ٹی کے علم میں نہیں۔ اسی طرح چیٹ جی پی ٹی ایسے مسائل بھی حل نہیں کرسکتا جو پیچیدہ ہوں۔
پیچیدہ مسائل تکنیکی قابلیت مانگتے ہیں۔ سو دوسری بات یہ ہے کہ اگر آپ کے سر میں درد ہے تو چیٹ جی پی ٹی سے پوچھا جاسکتا ہے کہ میں کون سی دوا کھاؤں، چیٹ جی پی ٹی آپ کو دوا کے نام نہیں بتائے گا بلکہ کہے گا کہ ڈاکٹر سے رجوع کریں کیونکہ اسے بھی پتہ ہے کہ یہ ایک تکنیکی سوال ہے۔
تمام انسانوں کا سردرد ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کسی کو آدھے سر کا درد ہوسکتا ہے اور کسی کو عام سردرد، اس لیے طب، انجینئرنگ یا میکینیکل کے ایسے سوال جن کا جواب کتابوں میں موجود ہے، چیٹ جی پی ٹی دے سکتا ہے لیکن جن سوالوں کا جواب انجینئر تجربے کی بنیاد پر دے، وہ چیٹ جی پی ٹی کے بس کی بات نہیں۔
اسی طرح مالیاتی مسائل، طبی معلومات یا قانونی مشورہ لینے کیلئے بھی چیٹ جی پی ٹی کی مدد لینا کوئی درست یا صائب اقدام قرار نہیں دیا جاسکتا۔ تیسری بات یہ ہے کہ چیٹ جی پی ٹی انسانی جذبات، ہمدردی، غصے اور نفرت جیسے انسانی رویوں کو سمجھنے میں غلطی کرسکتا ہے، اس لیے سوال سادہ اورآسان ہونا چاہئے۔
چوتھی بات یہ ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کا کسی بھی سوال پر ردِ عمل انسانوں جیسا ہوسکتا ہے، مثال کے طور پر آپ چیٹ جی پی ٹی سے کہیں کہ میرے کسی دیرینہ دوست کی طرح ایکٹنگ کرتے ہوئے جواب دو تو وہ ایسا کرسکتا ہے لیکن آپ کا یہ “دیرینہ دوست” یہ یاد رکھنے میں بری طرح ناکام ہوجائے گاکہ آپ نے کل اس سے کیا بات کی تھی؟
پانچویں بات یہ ہے کہ چیٹ جی پی ٹی ایک ٹیکسٹ بیسڈ ماڈل ہے جو صرف لکھے گئے مواد پر اپنا تجزیہ یا جواب پیش کرسکتا ہے اور اس کے بعض ورژن بہت حد تک تصاویر کو سمجھنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن یہ کسی چیز کو خود دیکھ، سن یا محسوس نہیں کرسکتے، اس لیے چیٹ جی پی ٹی کا ردِ عمل مایوس کن ہوسکتا ہے۔
چھٹی بات یہ ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کو تخلیق کیلئے تیار تو کیا گیا ہے لیکن یہ کوئی حقیقی تخلیق کار نہیں ہے۔ ایک معروف یوٹیوبر کا کہنا ہے کہ اگر آپ یوٹیوب ویڈیو کیلئے اسکرپٹ لکھوانا چاہتے ہیں تو چیٹ جی پی ٹی سے ایسی امید نہ رکھیں کہ اس کا لکھا گیا اسکرپٹ یوٹیوب صارفین کو پسند بھی آجائے گا کیونکہ اس کا انسانی نفسیات سے کوئی تعلق نہیں۔
یوٹیوبر کا کہنا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کو ویب سائٹس اور کتابوں میں موجود معلومات کی بنیاد پر تربیت دی گئی ہے اور اس کے پاس ٹھیک ٹھاک سائنسی، تعلیمی اور تکنیکی ڈیٹا موجود ہے جو طلبہ و طالبات کی بہت مدد کرسکتا ہے اور ماہرین بھی اس سے مدد لے سکتے ہیں، لیکن اس کی کچھ حدود و قیود ہیں جنہیں سمجھنا بھی ضروری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








