جدید فلکیات کا سب سے بڑا راز، سائنسدانوں نے ڈارک انرجی کی حقیقت بتا دی

تازہ ترین

تازہ ترین

جدید فلکیات کا سب سے بڑا راز، سائنسدانوں نے ڈارک انرجی کی حقیقت بتا دی
جدید فلکیات کا سب سے بڑا راز، سائنسدانوں نے ڈارک انرجی کی حقیقت بتا دی

سائنس کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی شاخ فلکیات کا سب سے بڑا راز تاریک توانائی ہے جسے ڈارک انرجی کہا جاتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ وہ توانائی ہے جو ہماری کائنات کے پھیلاؤ کو تیز کرتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سائنسدانوں کو تاریک مادّے (ڈارک میٹر) کا علم اس وقت ہوا جب کششِ ثقل کے حساب سے کائنات کے مشاہدات میں حجم اور مادے کی حیرت انگیز کمی نظرآئی جبکہ ڈارک انرجی نے بھی ایسے ہی مظاہر سامنے لا کر سائنسدانوں کی آنکھیں کھول دیں۔

یہ بھی پڑھیں:

ملک بھر میں ٹیلی کام، انٹرنیٹ سروسز معطلی کا خدشہ

ماہرینِ علمِ فلکیات کا کہنا ہے کہ ہماری کائنات تیزی سے پھیل رہی ہے اور جدید فلکیات کا اہم ترین راز یہ ہے کہ توسیع کی رفتار مزید تیز ہوتی دکھائی دیتی ہے جس کا سبب ایک ایسی نامعلوم توانائی ہے جسے فلکیاتی طبیعیات دان تاریک توانائی کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔

آئن اسٹائن کی مساوات سے پتہ چلتا ہے کہ توانائی کمیت اور روشنی کی رفتار سے مطابقت رکھتی ہے جبکہ تینوں عناصر کا ایک دوسرے سے تعلق بہت گہرا ہے۔ حیرت انگیز طور پر تاریک توانائی پوری کائنات میں موجود توانائی کا تقریباً 70 فیصد بنتی ہے جس پر تحقیقات جاری ہیں۔

حیرت انگیز طور پر تاریک توانائی کے متعلق کوئی یہ نہیں جانتا کہ یہ پیدا کہاں سے ہوئی اور کائنات کے مستقبل پر کس طرح اثر انداز ہوگی۔ کیا کائنات ہمیشہ اسی طرح پھیلتی رہے گی یا پھر کسی مستحکم حالت تک پہنچے گی؟ کہیں یہ راستہ بدل کر بگ کرنچ کی طرف تو نہیں بڑھے گی؟

ناسا کی خلائی دور بین ہبل کے مشاہدات سے سائنسدانوں کو یہ پتہ چلا کہ کائنات وقت کتنی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ وقت نے ثابت کیا کہ کائنات کی کہکشائیں، ستارے اور سیارے وقت کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے سے جس رفتار سے دور جارہے تھے، وہ رفتار آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے۔

دُنیا بھر کے فلکیات دانوں کا اتفاق ہے کہ تاریک توانائی کا وجود تسلیم کر لینا ہی کائنات کی وسعت کی حقیقی وجہ تلاش کرنے میں معاون ثابت ہوگا جبکہ ہبل کے مشاہدات سے پتہ چلتا ہے کہ کائنات کے موجودہ پھیلاؤ کی رفتار بگ بینگ کے فوراً بعد سے بھی زیادہ ہے۔ 

Related Posts