ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کے نرخ میں 27 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی گئی ہے، اور اگر یہ اضافہ منظور ہو جاتا ہے تو اس کا اطلاق کے الیکٹرک سمیت ملک بھر کے صارفین پر کیا جا سکتا ہے۔ اس ممکنہ فیصلے کے باعث بجلی کے بلوں میں مزید اضافہ ہونے کی توقع ہے۔
تفصیلات کے مطابق سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے مارچ کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی کرنے کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کو ارسال کر دی ہے۔ درخواست میں کہا گیا کہ مارچ میں ریفرنس فیول پرائس 7.99روپے مقرر تھی مگر 8اعشاریہ 26پیسے رہی۔ بجلی کی قیمت میں 27پیسے کا اضافہ کیاجائے۔
سی پی پی اے کی اس درخواست پر نیپرا آج سماعت کرے گا، جس میں حکام اعداد و شمار اور لاگت کا جائزہ لیں گے۔ منظوری کی صورت میں اضافی چارجز کے الیکٹرک سمیت تمام ڈسکوز کے صارفین سے وصول کیے جائیں گے اور اس کا اطلاق پورے ملک میں کیا جائے گا۔
سی پی پی اے کی رپورٹ کے مطابق مارچ میں مجموعی طور پر 8 ارب 93 کروڑ 90 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی، جبکہ تقسیم کار کمپنیوں کو 8 ارب 64 کروڑ 40 لاکھ یونٹس فراہم کیے گئے۔ اسی ماہ کے لیے بجلی کی ریفرنس لاگت 7 روپے 99 پیسے فی یونٹ مقرر کی گئی تھی۔
بجلی کی پیداوار کے ذرائع کی تفصیل میں بتایا گیا کہ مارچ کے دوران پانی سے 23.55 فیصد، جوہری ایندھن سے 21.95 فیصد، مقامی کوئلے سے 16.76 فیصد اور درآمدی کوئلے سے 13.80 فیصد بجلی حاصل کی گئی۔ اسی طرح مقامی گیس سے 11.34 فیصد جبکہ درآمدی ایل این جی سے 5.64 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ہوا سے 3.46 فیصد اور شمسی توانائی سے 1.18 فیصد بجلی پیدا ہوئی، جبکہ فرنس آئل کا حصہ 1.02 فیصد رہا۔ ماہرین کے مطابق فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت مجوزہ اضافہ منظور ہونے کی صورت میں صارفین پر ماہانہ بنیادوں پر اربوں روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








