اقوامِ متحدہ میں جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی نظرِ ثانی کانفرنس کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان شدید لفظی جھڑپ ہوئی۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایران کو کانفرنس کے 34 نائب صدور میں سے ایک منتخب کیا گیا جو کہ غیر وابستہ ممالک کے گروپ کی جانب سے نامزدگی کے بعد ہوا۔
امریکا نے ایران کی اس تقرری پر سخت اعتراض کیا اور کہا کہ یہ اقدام معاہدے کی ساکھ کے خلاف ہے کیونکہ واشنگٹن کے مطابق ایران نے ماضی میں بین الاقوامی جوہری نگرانی کے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون نہیں کیا اور عدم پھیلاؤ کے اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
امریکی نمائندے نے ایران کی تقرری کو ناقابلِ قبول قرار دیا جبکہ ایران نے ان الزامات کو سیاسی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ ایرانی حکام نے جواب میں امریکا کے اپنے جوہری ریکارڈ پر بھی تنقید کی۔
یہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی سطح پر خدشات موجود ہیں۔ مغربی ممالک کو اندیشہ ہے کہ ایران کی یورینیم افزودگی جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی طرف بڑھ سکتی ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا پروگرام صرف پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔
اس معاملے پر کئی دیگر ممالک نے بھی امریکا کی تشویش کی حمایت کی جبکہ کچھ ممالک نے کانفرنس کو سیاسی بنانے کی مخالفت کی اور زور دیا کہ اسے غیر جانبدار رکھا جائے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے خبردار کیا کہ دنیا میں جوہری خطرات بڑھ رہے ہیں اور اس صورتحال میں عالمی برادری کو تخفیفِ اسلحہ کی کوششیں تیز کرنی چاہئیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








